ایل پی جی قیمتوں میں اضافہ: اکھلیش یادو کا بی جے پی پر حملہ، پوچھا- ’مہنگائی پر کب پیش ہوگی مذمتی قرارداد؟‘

اکھلیش یادو نے کمرشیل ایل پی جی سلنڈر کی قیمتوں میں بھاری اضافے پر بی جے پی حکومت کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ سلنڈر نہیں بلکہ روٹی اور تھالی مہنگی ہوتی ہے اور حکومت عوام پر بوجھ ڈال رہی ہے

<div class="paragraphs"><p>اکھلیش یادو / آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

سماجوادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو نے کمرشیل ایل پی جی سلنڈر کی قیمتوں میں اضافے کو لے کر جمعہ کے روز بی جے پی حکومت پر سخت حملہ کیا اور کہا کہ اس فیصلے سے عام لوگوں کے لیے کھانا اور بھی مہنگا ہو جائے گا۔ انہوں نے مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی سستی جیسے مسائل پر بھی حکومت کو گھیرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ بی جے پی ان معاملات پر مذمتی قرارداد کب پیش کرے گی۔

خیال رہے کہ جمعہ کو کمرشیل ایل پی جی سلنڈر کی قیمت میں 19 کلوگرام کے حساب سے 993 روپے کا اضافہ کیا گیا، جسے اب تک کا سب سے بڑا اضافہ مانا جا رہا ہے۔ یہ مسلسل تیسرا مہینہ ہے جب قیمتوں میں اضافہ کیا گیا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ یہ اضافہ مغربی ایشیا میں جاری تنازع کے باعث عالمی توانائی قیمتوں میں تیزی سے جڑا ہوا ہے۔

نئی قیمتوں کے بعد دہلی میں 19 کلوگرام کا کمرشیل سلنڈر اب 3071.50 روپے میں دستیاب ہے، جبکہ اس سے پہلے اس کی قیمت 2078.50 روپے تھی۔ حالانکہ گھریلو ایل پی جی سلنڈر کی قیمتوں میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے لیکن کمرشیل استعمال میں ہونے والے اضافے کا اثر براہ راست کھانے پینے کی اشیا پر پڑنے کا امکان ہے۔

اکھلیش یادو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اپنی بات رکھتے ہوئے کہا کہ ’’سلنڈر مہنگا نہیں ہوتا، روٹی اور تھالی مہنگی ہوتی ہے۔ یہ بات وہی سمجھتا ہے جو خود خرید کر کھاتا ہے، وہ نہیں جو دوسروں کے یہاں جا کر کھاتا ہے یا دوسروں کی تھالی سے چراتا ہے۔‘‘ ان کے اس بیان کو حکومت پر ایک طنزیہ حملہ مانا جا رہا ہے۔


انہوں نے مزید کہا کہ اگر حکومت کو قیمت بڑھانی ہی تھی تو سیدھے 1000 روپے بڑھا دیتی۔ انہوں نے سوال کیا کہ ’’1000 میں صرف 7 روپے کم کر کے بی جے پی کس پر احسان کر رہی ہے؟‘‘ ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کے فیصلے عوامی مشکلات کو بڑھاتے ہیں اور حکومت کو چاہیے کہ وہ مہنگائی جیسے بنیادی مسائل پر سنجیدگی دکھائے۔

اکھلیش یادو نے بی جے پی کو نشانہ بناتے ہوئے یہ بھی کہا کہ حکومت کو مہنگائی، بے روزگاری، بیروزگاری اور معاشی سستی جیسے اہم مسائل پر جواب دینا چاہیے۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں پوچھا کہ کیا بی جے پی ان مسائل پر بھی ویسی ہی مذمتی قرارداد لائے گی جیسی دیگر سیاسی معاملات پر لائی جاتی ہے۔

قابل ذکر ہے کہ اتر پردیش اسمبلی کے دونوں ایوانوں نے جمعرات کو ایک روزہ خصوصی اجلاس میں خواتین ریزرویشن سے متعلق آئینی ترمیمی بل کو لوک سبھا میں مبینہ طور پر پاس نہ ہونے دینے پر سماجوادی پارٹی، کانگریس اور انڈیا اتحاد کے دیگر جماعتوں کے خلاف مذمتی قرارداد منظور کی تھی۔ اسی پس منظر میں اکھلیش یادو نے حکومت پر دوہرا معیار اپنانے کا الزام بھی لگایا ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔