اکھلیش یادو نے یوگی حکومت پر متعدی بیماریوں کے تئیں لاپروا ہونے کا لگایا الزام

اکھلیش یادو نے کہا کہ فیروزآباد میں ڈینگو اور وائرل سے 56 اموات ہونے کے بعد بھی انتظامیہ کی نیند نہیں ٹوٹی، لکھنؤ میں اب تک ٹائیفائڈ سے تقریباً 100 افراد متاثر ہوچکے ہیں۔

اکھلیش یادو، تصویر یو این آئی
اکھلیش یادو، تصویر یو این آئی
user

یو این آئی

لکھنؤ: سماجو ادی پارٹی (ایس پی) سربراہ اکھلیش یادو نے کہا کہ فیروزآباد میں ڈینگو اور وائرل سے ہوئی اموات کے بعد بھی حکومت سوئی ہوئی ہے اور متعدی بیماریوں کی روک تھام کے کوئی کوششیں نہیں کی جا رہی ہیں۔ اکھلیش یادو نے بدھ کو کہا کہ اترپردیش میں لچر طبی سہولیات کی وجہ سے عوام بے حال ہیں۔ بارش۔ پانی بھراؤ کی وجہ سے متعدی بیماریاں تیزی سے پھیل رہی ہیں۔ حکومت کی جانب سے انفکشن روکنے کی سمت میں کوئی کوشش نہیں ہو رہی ہے نہ تو وقت سے دوائیوں کا چھڑکاؤ ہوا اور نہ ہی علاج کا کوئی نظم ہے۔

اکھلیش یادو نے کہا کہ فیروزآباد میں ڈینگو اور وائرل سے 56 اموات ہونے کے بعد بھی انتظامیہ اور حکومت کی نیند نہیں ٹوٹی۔ لکھنؤ اور سرحدی اضلاع ٹائیفائڈ کی زد میں ہیں۔ لکھنؤ میں اب تک ٹائیفائڈ سے تقریباً سو افرد متاثر ہوچکے ہیں۔ ضلع اسپتال اور پرائمری ہیلتھ سنٹروں پر بنیادی سہولیات کا بھی قفدان ہے۔


ایس پی سربراہ نے کہا کہ اشتہار میں مشغول بی جے پی حکومت نیند سے بیدار ہو اور لکھنؤ و ریاست کے شہروں، بسیوں، گاؤں میں پھیل رہے خطرناک جان لیوا بخار سے متاثر ہونے والے بچوں اور بڑوں کے لئے بہتر طبی سہولیات کو یقینی بنائے۔ وائرل فیور سے یوپی کے بال۔بچوں والے کنبے بے حد فکر مند اور خائف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یوپی میں بی جے پی حکومت کی ترجیح میں طبی سہولیات ہیں ہی نہیں کورونا عالمی وبا میں عام عوام کا بھروسہ سرکار نے توڑ دیا ہے۔ علاج، بستر، آکسیجن، بحران کے حل میں بی جے پی حکومت پوری طرح فیل ہو رہی ہے، ویکسینیشن کے نام پر ہنگامہ پربا کرنے والی بی جے پی حکومت ویکسین کی فراہمی میں پچھڑتی ہی جا رہی ہے۔

سابق وزیر اعلی نے کہا کہ کورونا بحران کے دوران بلیک فنگس کا صحیح علاج اسپتالوں میں نہیں ہو پایا۔ دواؤں، انجکشن کی تلاش میں لوگ در در کی ٹھوکریں کھانے کو مجبور ہیں۔ پوری ریاست میں ہلچل برپا ہے۔ عوام پریشان ہیں۔ بی جے پی صرف اقتدار بچانے میں مشغول ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔