فضائی آلودگی: سپریم کورٹ نے سنٹرل وسٹا پروجیکٹ پر مرکز سے کیا جواب طلب

وکاس سنگھ نے کہا کہ آلودگی کو روکنے کے اقدامات کے تحت تعمیراتی کاموں پر سپریم کورٹ کی طرف سے عارضی پابندی کے باوجود سینٹرل وسٹا پروجیکٹ پر تعمیراتی کام جاری ہے۔

تصویر آئی اے این ایس
تصویر آئی اے این ایس
user

یو این آئی

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے دہلی اور قومی راجدھانی خطہ میں آلودگی کی ’خطرناک‘ سطح کے پیش نظر سنٹرل وسٹا پروجیکٹ (پارلیمنٹ کے اندر اور اس کے ارد گرد کے پروجیکٹ) کے تعمیراتی کاموں پر روک کے باوجود تعمیراتی کام جاری رکھے ہونے پر عدالت عظمٰی نے پیر کو مرکزی حکومت سے جلد جواب طلب کیا ہے۔

چیف جسٹس این وی رمن، جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ اور جسٹس سوریہ کانت کی بنچ نے حکومت سے جواب طلب کیا۔ دہلی میں آلودگی معاملہ کی سماعت کے دوران درخواست گزار آدتیہ دوبے کے وکیل وکاس سنگھ نے سینٹرل وسٹا پروجیکٹ میں تعمیراتی کام جاری رکھنے سمیت کئی ایشوز اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ آلودگی کو روکنے کے اقدامات کے تحت تعمیراتی کاموں پر سپریم کورٹ کی طرف سے عارضی پابندی کے باوجود سینٹرل وسٹا پروجیکٹ پر تعمیراتی کام جاری ہے۔ اس پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے بنچ نے سالیسٹر جنرل تشار مہتا، جو مرکزی حکومت کی نمائندگی کر رہے ہیں، سے جواب دینے کو کہا۔


بنچ نے مرکزی حکومت کے علاوہ دہلی، ہریانہ، پنجاب اور اتر پردیش کی حکومتوں کو ایک بار پھر سرزنش کی ہے کہ وہ آلودگی کی اس ہنگامی صورتحال سے سختی سے نمٹنے کے لیے جاری کردہ ہدایات پر سختی سے عمل کریں، ورنہ انہیں سزا دی جائے گی۔ وگر نہ ایک آزاد ٹاسک فورس قائم کرنے پر مجبور کیا جائے گا۔

سپریم کورٹ نے متعلقہ حکومتوں سے کہا ہے کہ وہ حلف نامہ داخل کریں اور یہ بتائیں کہ انہوں نے خطرناک فضائی آلودگی کو فوری طور پر کم کرنے کے لیے اب تک کیا اقدامات کیے ہیں۔ سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ ’کمیشن فار ایئر کوالٹی مینجمنٹ ان دہلی این سی آر‘ کی طرف سے جاری کردہ رہنما خطوط پر عمل درآمد سے متعلق تمام معلومات بدھ تک ایک حلف نامہ کے ذریعے سپریم کورٹ کے سامنے پیش کی جائیں۔


چیف جسٹس کی سربراہی میں تین ججوں کی بنچ نے دہلی سمیت متعلقہ ریاستی حکومتوں سے بھی کہا ہے کہ وہ اپنے فلاحی فنڈز سے تعمیراتی کام پر پابندی سے متاثر ہونے والے مزدوروں کی مدد کرنے کی وضاحت کریں۔ آلودگی کو کم کرنے کے تاریخی اقدامات کے ساتھ ساتھ متاثرہ مزدوروں کو اجرت سمیت تمام معاملات سے متعلق ایکشن رپورٹ 2 دسمبر کو ہونے والی اگلی سماعت سے پہلے حلف نامہ کے ذریعے پیش کریں۔

خیال رہے عدالت عظمیٰ نے 17 سالہ اسکولی طالب علم دوبے کی جانب سے دائر ایک پی آئی ایل کی سماعت کرتے ہوئے گزشتہ سماعت کے دوران دارالحکومت دہلی اور اس سے متصل علاقوں میں تعمیراتی کاموں پر دوبارہ روک لگا دی تھی۔ سپریم کورٹ نے بجلی اور پلمبنگ سے متعلق کاموں کو پابندی کے دائرے سے باہر رکھا تھا۔ اس سے قبل کی سماعتوں کے دوران سپریم کورٹ نے تعمیراتی کاموں پر پابندی سمیت کئی پابندیاں عائد کی تھیں، لیکن 22 نومبر کو دہلی حکومت نے آلودگی میں کمی کا حوالہ دیتے ہوئے تعمیراتی کاموں پر سے پابندی ہٹا دی تھی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔