بل و بلڈوزر کی حکومت کو ہٹانے کے لئے سماج وادی پارٹی کا اقتدار میں آنا ضروری: اکھلیش یادو

سابق وزیر اعلی اکھلیش نے کہا کہ شہروں اور ہمارے منصوبوں کا نام بدلنے والوں کو اب عوام تبدیل کرنے کے لئے پوری طرح تیار ہے۔ کسانوں پر جیپ چڑھا کر قتل کرنے والے لوگ کبھی بھی کسانوں کے ہمدرد نہیں ہو سکتے۔

اکھلیش یادو، تصویر یو این آئی
اکھلیش یادو، تصویر یو این آئی
user

یو این آئی

پرتاپ گڑھ: سماج وادی پارٹی کے سربراہ و سابق وزیر اعلی اکھلیش یادو نے کہا کہ بل و بلڈوزر کی حکومت کو ہٹانے کے لئے سماج وادی پارٹی کا اقتدار میں آنا ضروری ہے۔ انہوں نے تحصیل پٹی کے رام کولا گاوں میں گزشتہ روز شادی کی ایک تقریب میں کارکنوں کو خطاب کرتے ہوئے مذکورہ تاثرات کا اظہار کیا۔

سابق وزیر اعلی اکھلیش یادو نے کہا کہ پرتاپگڑھ میں کارکنوں کا استحصال اور فرضی سنگین دفعات کے تحت مقدمات میں پھنسا کر پریشان کیا جا رہا ہے۔ کارکنوں کو انتباہ کرتے ہوئے کہا کہ بھولنا نہیں ناانصافی کرنے والوں کی نشان دہی کرکے رکھنا، یہاں جرائم کے اضافے کے متعلق کہا کہ کچھ روز قبل پرتاپگڑھ کا تاجر کنبہ سیکورٹی کے لئے وزیر اعلی سے مدد مانگنے گیا تھا، اس کو مدد تو نہیں ملی بلکہ اس تاجر کے دونوں بھائیوں کو گولیوں سے بھون دیا گیا۔


پریاگ راج ضلع میں ہوئے چار لوگوں کے بہیمانہ قتل پر حکومت کو قصوروار ٹھراتے ہوئے کہا کہ اگر انتظامیہ نے سمجھدارای سے کام لیا ہوتا تو چار لوگوں کا قتل نہ ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ گوداموں سے کھاد غائب ہے، دھان کی خرید نہیں ہو رہی ہے، نوجوان روزگار سے محروم ہیں، ایسے میں عوام تبدیلی چاہتی ہے۔

سابق وزیر اعلی اکھلیش نے کہا کہ شہروں اور ہمارے منصوبوں کا نام بدلنے والوں کو اب عوام تبدیل کرنے کے لئے پوری طرح تیار ہے۔ کسانوں پر جیپ چڑھا کر قتل کرنے والے لوگ کبھی بھی کسانوں کے ہمدرد نہیں ہو سکتے۔ وزیراعلی بابا نہ تو لیپ ٹاپ چلانا جانتے ہیں اور نہ ہی اسمارٹ فون، یہ جھوٹے لوگوں کی حکومت ہے۔ دھوکہ دے کر عوام کو بے وقوف بناتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سماج وادی پارٹی کے زیر اقتدار آنے کے بعد نوجوانوں کو روزگار کے موقع فراہم کیے جائیں گے۔ اس موقع پر سماج وادی پارٹی کے کثیر تعداد میں لیڈران موجود رہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔