دہلی حکومت اور سی اے کیو ایم کی پالیسیوں کے خلاف اے آئی ایم ٹی سی کی ہڑتال، 21 سے 23 مئی تک چکہ جام کا اعلان
ٹرانسپورٹ تنظیم نے دعویٰ کیا کہ 2015 سے ای سی سی کے طور پر کروڑوں روپے اکٹھا کیے جا چکے ہیں لیکن دہلی کی ہوا کے معیار میں متوقع بہتری نہیں آئی ہے۔ جمع کی گئی رقم میں سے 55 فیصد اب تک خرچ نہیں ہوئی ہے۔

کمیشن فار ایئر کوالٹی مینجمنٹ (سی اے کیو ایم) اور دہلی حکومت کی پالیسیوں کے خلاف آل انڈیا موٹر ٹرانسپورٹ کانگریس (اے آئی ایم ٹی سی) کی قیادت میں دہلی-این سی آر کی 68 سے زیادہ ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشنز اور یونینوں نے 21 سے 23 مئی تک 3 روزہ ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔ تنظیموں کا الزام ہے کہ ماحولیاتی معاوضہ چارج (ای سی سی) میں زبردست اضافہ اور بی ایس-4 کمرشیل گاڑیوں پر مجوزہ پابندی سے ٹرانسپورٹ انڈسٹری کے لیے معاشی بحران پیدا ہوگیا ہے۔
اے آئی ایم ٹی سی کے سربراہ ڈاکٹر ہریش سبھروال نے بتایا کہ دہلی میں داخل ہونے والی مال بردار گاڑیوں پر بغیر کسی امتیاز کے ای سی سی میں اضافہ کیا گیا ہے۔ چھوٹی کمرشیل گاڑیوں پر یہ فیس تقریباً 1,400 روپئے سے بڑھا کر 2,000 روپئے اور بھاری ٹرکوں پر 2,600 روپئے سے 4,000 روپئے کر دی گئی ہے۔ تنظیم کا دعویٰ ہے کہ یہ اضافُہ 40 سے 55 فیصد تک ہے جس سے ٹرانسپورٹ کاروبار پر اضافی بوجھ پڑے گا۔
ٹرانسپورٹ تنظیموں کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کا اصل مقصد صرف ان ٹرانزٹ گاڑیوں کو دہلی میں داخل ہونے سے روکنا تھا، جو راجدھانی کو کوریڈور کی طرح استعمال کرتی ہیں لیکن اب ضروری اشیا لے کر آنے والی اور دہلی میں لوڈنگ کے لیے خالی داخل ہونے والی گاڑیوں پر بھی ای سی سی لگایا جا رہا ہے جنہیں پہلے چھوٹ حاصل تھی۔
تنظیموں نے بی ایس-4 گاڑیوں پر بھی ای سی سی لگائے جانے کی مخالفت کی ہے۔ ان کا استدلال ہے کہ یہ گاڑیاں اخراج کے جدید ترین معیارات کی تعمیل کرتی ہیں اور انہیں گریپ-4 کے دوران بھی چلانے کی اجازت ہے۔ اس کے علاوہ یکم نومبر 2026 سے دہلی میں بی ایس-4 اور اس سے کم کمرشیل گاڑیوں کے داخلے پر مجوزہ پابندی کو غیر سائنسی اور غیر قانونی قرار دیا گیا ہے۔ اے آئی ایم ٹی سی کے مطابق اس سے دہلی-این سی آر میں 17 لاکھ سے زیادہ ٹرک آپریٹرز اور ان کے خاندانوں کی روزی روٹی متاثر ہوگی۔
تنظیم نے دعویٰ کیا کہ 2015 سے ای سی سی کے طور پر کروڑوں روپے اکٹھے کیے جا چکے ہیں لیکن دہلی کی ہوا کے معیار میں متوقع بہتری نہیں آئی ہے۔ دسمبر 2025 تک ای سی سی سے 1753.2 کروڑ روپئے اکٹھا کئے گئے۔ جن میں سے 55 فیصد رقم اب تک خرچ نہیں ہوئی۔ ٹرانسپورٹ تنظیموں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ای سی سی میں اضافہ واپس لیا جائے، فیس صرف ٹرانزٹ گاڑیوں پر لاگو کی جائے اور بی ایس-4 گاڑیوں پر مجوزہ پابندی ختم کی جائے۔
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
