اے آئی اے ڈی ایم کے اور ڈی ایم کے کے اراکین راجیہ سبھا سے معطل

پہلے نائیڈو نے ہنگامہ کرنے والے اراکین کو وارننگ دی تھی کہ انہیں ایوان کے ضابطے کے تحت معطل کیا جاسکتا ہے، بعد میں انہوں نے اراکین سے کہا کہ وہ فوری طور پر ایوان سے باہر چلے جائیں۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

یو این آئی

نئی دہلی: راجیہ سبھا کے چیئرمین ایم وینکیا نائیڈو نے کاویری ندی پر باندھ کے مسئلے کے سلسلے میں سرمائی اجلاس کے پہلے دن سے ہی روز ہنگامہ کرنے والے اے آئی اے ڈی ایم کے اور ڈی ایم کے کے 12 اراکین کو آج دن بھر کے لئے ایوان سے معطل کردیا۔

لنچ کے بعد جیسے ہی ایوان کی کارروائی شروع ہوئی تو اے آئی اے ڈی ایم کے اور ڈی ایم کے کے اراکین روز کی طرح نشست کے نزدیک آکر شوروغل کرنے لگے۔ چیئرمین نے ان سے اپنی نشستوں پر لوٹنے کی اپیل کی لیکن ان پر اس کا اثر نہیں ہوا جس کے پیش نظر ایوان کی کارروائی پہلے 15 منٹ اور بعد میں تین بجے تک ملتوی کرنی پڑی۔

اس سے پہلے نائیڈو نے ہنگامہ کرنے والے اراکین کو وارننگ دی کہ انہیں ایوان کے ضابطے کے اصول نمبر 255 کے تحت معطل کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے دیکھا کہ اراکین پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوا تو انہوں نے اے آئی اے ڈی ایم کے کے نونیت کرشنن، وجیلا ستیاناتھن، این گوکل کرشنن، وی میترین، متھوکروپن، اے کے سیلوراج، سبرمنیم اور اے وجے کمار اور ڈی ایم کےکے تروچی شیوا، کنی موجھی، آر ایس بھارتی اور ٹی ایس الینگووان کو دن بھر کے لئے ایوان سے معطل کردیا۔ انہوں نے اراکین سے کہا کہ وہ فوری طور پر ایوان سے باہر چلے جائیں۔

اس کے بعد انہوں نے دو بج کر 14 منٹ پر ایوان کی کارروائی 15 منٹ کے لئے ملتوی کردی۔ ایوان کی کارروائی پھر سے شروع ہونے پر بھی اے آئی اے ڈی ایم کے اور ڈی ایم کے کے اراکین نعرے بازی کرنے لگے اس پر ڈپٹی چیئرمین ہری ونش نے کارروائی تین بجے تک کے لئے ملتوی کر دی۔

لنچ کے بعد کارروائی شروع کرتے ہوئے نائیڈو نے کہا کہ ایوان کے کام کاج کی آج کی فہرست کے مطابق جموں و کشمیر میں صدر راج سے متعلق تجویز پر بحث کی جانی ہے لیکن آبی وسائل کے وزیر نے کاویری مسئلے پر اے آئی اے ڈی ایم کے اور ڈی ایم کے کے اراکین سے بات کی ہے اور وہ ایوان میں اپنا بیان دینا چاہتے ہیں۔ اس پر ان دونوں پارٹیوں کے اراکین نشست کے نزدیک آکر نعرے بازی کرنے لگے۔ نائیڈو نے کہا کہ اگر اراکین نہیں چاہتے تو وزیر اپنا بیان نہیں دیں گے لیکن انہیں شور و غل بند کر کے اپنی نشستوں پر لوٹ جانا چاہiے اور جموں و کشمیر کے مسئلے پر بحث ہونے دیں۔

انہوں نے وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ سے جموں و کشمیر میں صدر راج سے متعلق تجویز پیش کرنے کو کہا۔ راج ناتھ نے ہنگامے کے درمیان ہی تجویز پیش کی اور ریاست میں صدر راج نافذ کرنے کے لئے درپیش وجوہات گنوائیں۔ اس دوران ڈی ایم کے اور اے آئی اے ڈی ایم کے کے اراکین ہنگامہ کرتے رہے۔ اس پر نائیڈو نے ان اراکین کے نام لے کر انہیں اصول نمبر 255 اور 256 کے تحت دن کی باقی بچی ہوئی کارروائی سے معطل کردیا۔

اس سے پہلے صبح بھی اے آئی اے ڈی ایم کے اور ڈی ایم کے کے اراکین کے ہنگامے اور کانگریس کے رافیل سودے پر جوائنٹ پارلیمانی کمیٹی تشکیل دینے کے مطالبے کی وجہ سے ایوان کی کارروائی دو بار ملتوی کی گئی۔ اراکین کے مختلف مسئلوں پر ہنگامے کی وجہ سے راجیہ سبھامیں اس اجلاس میں اب تک کوئی کام کاج نہیں ہوسکا ہے۔ سرمائی اجلاس 11 دسمبر کو شروع ہوا تھا۔