زرعی قانون: اصل کام اب شروع ہوا ہے، نوجوت سنگھ سدھو

سدھو نے الزام لگایا کہ مرکز کا ایم ایس پی، پی ڈی ایس، سرکاری فصل کی خریداری، غریبوں کی خوراک کی حفاظت کو ختم کرنے کا "پرفریب" منصوبہ جاری رہے گا اور اب یہ زیادہ خطرناک ہوگا کیونکہ یہ چھپا ہوا ہوگا۔

نوجوت سنگھ سدھو، تصویر یو این آئی
نوجوت سنگھ سدھو، تصویر یو این آئی
user

یو این آئی

چنڈی گڑھ: پنجاب کانگریس کے صدر نوجوت سنگھ سدھو نے آج الزام لگایا کہ کم از کم سہارا قیمت (ایم ایس پی)، غریبوں کی خوراک کی حفاظت، سرکاری فصلوں کی خریداری، عوامی تقسیم کے نظام (پی ڈی ایس) ختم کرنے کی مرکز کی زراعت کو ختم کرنے کا "پیچیدہ"منصوبہ زرعی قانون منسوخ کرنے کے باوجود جاری رہنے والا ہے جو اب 'چھپا ہوا' اور زیادہ 'خطرناک' ہوگا، اس لیے لوگوں کا اصل کام اب شروع ہوا ہے۔ انہوں نے ٹوئٹ کیا کہ تین زرعی قوانین کی جیت پر ہم خوش ہو رہے ہیں... لیکن اصل کام اب شروع ہوا ہے۔

انہوں نے الزام لگایا کہ مرکز کا ایم ایس پی، پی ڈی ایس، سرکاری فصل کی خریداری، غریبوں کی خوراک کی حفاظت کو ختم کرنے کا "پرفریب" منصوبہ جاری رہے گا اور اب یہ زیادہ خطرناک ہوگا کیونکہ یہ چھپا ہوا ہوگا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مرکز کی طرف سے ایم ایس پی پر قانون لانے کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا رہا ہے اور ہم جون 2020 کی صورتحال پر واپس آ گئے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ چھوٹے کسانوں کو کارپوریٹس کے چنگل میں پھنسنے سے بچنے کے لیے پنجاب حکومت کے تعاون کی ضرورت ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ صرف پنجاب ماڈل ہی واحد راستہ ہے۔


جمعہ کو وزیر اعظم نے اعلان کیا تھا کہ زرعی قانون پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس میں منسوخ کئے جائیں گے۔ پچھلے ایک سال سے تحریک کار کسان تنظیموں سمیت مختلف اپوزیشن سیاسی جماعتوں نے بھی ایم ایس پی قانون بنانے کا مطالبہ تیز کر دیا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔