لوک سبھا کے بعد راجیہ سبھا سے بھی ’او بی سی ریزرویشن بل‘ پاس، حکومت کو سبھی اپوزیشن پارٹیوں کا ملا ساتھ

او بی سی ریزرویشن بل کے حق میں 187 ووٹ پڑے جبکہ اس کی مخالفت میں صفر ووٹ پڑے، گویا کہ اس بل کے خلاف اپوزیشن پارٹیوں کا کوئی بھی لیڈر سامنے نہیں آیا۔

پارلیمنٹ ہاؤس / تصویر بشکریہ راجیہ سبھا ٹی وی
پارلیمنٹ ہاؤس / تصویر بشکریہ راجیہ سبھا ٹی وی
user

قومی آوازبیورو

نئی دہلی: ایوان بالا راجیہ سبھا نے آج 105ویں آئینی ترمیمی بل کو منظور کرلیا، جو اب ریاستوں کو دوسرے پسماندہ طبقات (او بی سی) کی فہرست دوبارہ بنانے کا اختیار دیتا ہے۔ ایوان زیریں لوک سبھا پہلے ہی اس بل کو پاس کر چکا ہے اور اس طرح اس آئینی ترمیمی بل کو پارلیمنٹ نے منظور کر لیا۔ اس بل کے حق میں 187 ووٹ پڑے، جبکہ اس بل کی مخالفت میں صفر ووٹ پڑے۔ گویا کہ اس بل کے خلاف اپوزیشن پارٹیوں کا بھی کوئی لیڈر سامنے نہیں آیا۔ اس بل کے حق میں پہلے ہی اپوزیشن پارٹیوں نے حکومت کی حمایت کا اعلان کر دیا تھا، جس سے اس بل کو پارلیمنٹ کی دونوں ایوانوں سے پاس کرانے میں کسی بھی طرح کی پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔

ایوان بالا یعنی راجیہ سبھا میں تقریباً پانچ گھنٹے تک جاری رہنے والی بحث کا جواب دینے کے بعد سماجی انصاف و تفویض اختیارات کے وزیر ڈاکٹر ویریندر کمار نے ایوان کو ووٹوں کی تقسیم کے ذریعے منظور کر لیا۔ آئینی ترمیمی بل ہونے کی وجہ سے اس پر ووٹ ڈالنا پڑا کیونکہ اس طرح کے بل کو ایوان میں موجود دو تہائی ارکان کی رضامندی درکار ہوتی ہے۔ تاہم تمام سیاسی پارٹیوں نے اس بل کی حمایت کی اور اسے منظور کرانے کی یقین دہانی کرائی۔


ایوان بالا میں بحث کا جواب دیتے ہوئے ڈاکٹر ویریندر کمار نے کہا کہ اس بل کی منظوری کے بعد ریاستی حکومتوں کی فہرست کے مطابق، او بی سی برادری کے لوگوں کو تعلیم اور ملازمتوں میں ریزرویشن حاصل کرنے کی راہ ہموار ہو جائے گی اور اس سے فلاحی اسکیموں کے فوائد حاصل ہوں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ او بی سی برادری کے مفادات کے تحفظ کے لیے حکومت کی پالیسی اور نیت دونوں واضح ہیں۔

سال 2018 میں 102ویں آئینی ترمیم کے وقت سب نے اس کی حمایت کی اور تضادات کی نشاندہی نہیں کی۔ اس بل کے ذریعے، جن سے ریاستوں کے اختیارات ختم ہوگئے تھے، ان کے حقوق بحال کردیئے گئے ہیں۔ ڈاکٹر کمار نے کہا کہ حکومت نے ریزرویشن کے حوالہ سے سپریم کورٹ میں نظرثانی درخواست دائر کی تھی، جس پر عدالت نے واضح کیا کہ 102ویں ترمیم آئین اور وفاقی نظام کے بنیادی ڈھانچے کو متاثر نہیں کرتی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے یکم جولائی کو سپریم کورٹ کی نظرثانی کی درخواست خارج کرنے کے بعد بل لانے کا فیصلہ کیا۔ مہاراشٹر کے علاوہ دیگر ریاستیں بھی اس بل کی منظوری سے فائدہ اٹھائیں گی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔