کیا آپ اس ملک کے بارے میں جانتے ہیں جو زانیوں کو ’نامرد‘ بنا دیتا ہے؟

جنسی جرائم میں قصوروار پائے گئے لوگوں کو انجکشن دے کر نامرد بنانے کا عمل انجام دیا جا رہا ہے، ایک قصوروار کو ٹیلی ویژن پر رحم کی بھیک مانگتے ہوئے بھی دکھایا گیا ہے۔

علامتی، تصویر آئی اے این ایس
علامتی، تصویر آئی اے این ایس
user

تنویر

دنیا میں زنا یعنی عصمت دری کے واقعات میں لگاتار اضافہ ہو رہا ہے اور کچھ ممالک نے اس جرم کا ارتکاب کرنے والوں کے خلاف انتہائی سخت قوانین کا نفاذ کیا ہوا ہے۔ ایک ایسا ملک بھی ہے جس نے زانیوں کو بطور سزا ’نامرد‘ بنانے کا عمل بھی انجام دے رہا ہے۔ اس ملک کا نام قزاقستان ہے، جہاں بچوں کے ساتھ ہوئے جنسی جرائم میں قصوروار پائے گئے سبھی مردوں کے خلاف سخت قانون کا نفاذ ہو رہا ہے۔ ملک میں ایسے لوگوں کو نامرد بنانے کا عمل جاری ہے اور کہا گیا ہے کہ اس طرح کے جرائم کو قطعاً برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انتظامیہ نے جنسی جرائم پیشوں کو ہدایت دینے کے لیے میڈیا میں باقاعدہ مہم چلا رکھی ہے۔

بتایا جاتا ہے کہ انتظامیہ جنسی جرائم میں قصوروار پائے گئے لوگوں کو انجکشن دے کر نامرد بنانے کا کام کر رہی ہے۔ اس عمل کے دوران جنسی استحصال کے ایک قصوروار کو مقامی ٹیلی ویژن پر رحم کی بھیک مانگتے ہوئے بھی دکھایا گیا ہے۔ برطانیہ کے اخبار ’ڈیلی میل‘ میں اس تعلق سے ایک رپورٹ شائع ہوئی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ قزاقستان میں باضابطہ طور پر انجکشن دے رک ایسے جرائم پیشوں کو نامرد بنایا جا رہا ہے۔ جیل میں ویل سزا کاٹنے کے بعد بھی جرائم پیشوں کو اس سے نجات نہیں مل رہی ہے۔ جیل سے باہر آنے کے بعد بھی ایسے لوگوں کو انجکشن دینے کا انتظام کیا گیا ہے۔


رپورٹ کے مطابق نامرد بنائے جانے کے عمل سے گزر رہے ایک جرائم پیشہ نے پہلا انجکشن لگنے کے بعد ٹیلی ویزن سے اسے بربریت والا عمل قرار دیا ہے اور اس پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس کا کہنا تھا کہ وہ اپنے سب سے خراب دشمن کو بھی ایسی سزا دینے کی خواہش نہیں رکھتا ہے۔ بچوں کے ساتھ جنسی استحصال کے قصوروار شخص نے ٹی وی پر کہا ’’مجھے پتہ ہے کہ یہ میرے جسم کے لیے نقصان دہ ہے۔ مجھے پتہ ہے کہ یہ مستقبل میں میری صحت کو متاثر کرے گا۔‘‘

بچوں کے ساتھ جنسی استحصال کے ایک دیگر قصوروار نے نامرد بنائے جانے کے عمل پر کہا کہ ’’اب مجھے افسوس ہے کہ میں نے ایسا جرم کیا۔ میں اپنی مثال دے کر دوسرے مردوں کو بتانا چاہتا ہوں کہ انھیں اس طرح کا بھیانک جرم نہیں کرنا چاہیے۔ میں ان لوگوں سے بھیک مانگتا ہوں جنھوں نے مجھے نامرد بنانے کا حکم دیا، انھیں اپنا فیصلہ رَد کر دینا چاہیے۔ میری عمر بہت کم ہے۔‘‘ نابالغ کے ساتھ عصمت دری کی کوشش کے قصوروار مرات نامی شخص نے بھی اپنی تکلیف ظاہر کی۔ اس نے بتایا کہ کس طرح اسے جنوبی شہر شیامکینٹ واقع جیل میں اب تک نامرد بنانے والے تین انجکشن لگ چکے ہیں۔ بچی کی عصمت دری کی کوشش کرنے والے مرات کو 15 سال کی جیل ہوئی تھی۔ اس نے کہا کہ ’’یہ میری مردانی طاقت کے لحاظ سے واقعی بہت خراب ہے۔ مجھے مردوں والی زندگی کی ضرورت ہے۔ مجھے نامرد کیوں بنایا جا رہا ہے؟ میں مانتا ہوں کہ میں قصوروار ہوں، لیکن میں مزید جینا چاہتا ہوں۔ میرے پاس اب بھی میری فیملی اور بچے ہیں۔‘‘


اس طرح کی سزا کے تعلق سے قزاقستان حکومت کا دعویٰ ہے کہ اس کے سخت رویہ کی وجہ سے بچوں پر حملوں میں 15 فیصد کی رکاوٹ آئی ہے۔ حالانکہ بچوں کے جنسی استحصال کے جرائم کے اعداد و شمار بڑھے ہیں۔ مانا جا رہا ہے کہ ایسے معاملوں کی رپورٹنگ کے سبب یہ بڑھے ہوئے اعداد و شمار دکھائی پڑ رہے ہیں۔ اس درمیان جنسی جرائم کے لیے جیل میں زنا کے مرتکب افراد کو نامرد بنانے کی ذمہ داری سنبھال رہی نرس کا کہنا ہے کہ مغربی ممالک کو بھی قزاقستان کے اس قانون کو اپنے یہاں عمل میں لانا چاہیے۔ 69 سالہ زویا مانینکو نے اس سزا کو جائز ٹھہرایا۔ جیل اسپتال میں کام کرنے والی زویا نے کہا کہ ’’بچوں کے ساتھ جنسی استحصال کے قصورواروں کو ایسی سزا ہی دی جانی چاہیے۔ ان لوگوں کو کسی طرح روکنے کی ضرورت ہے۔ وہ بچوں کے خلاف بھیانک جرم کرتے ہیں تو یہ درست ہے کہ قانون اس کی (نامرد بنانے کی) اجازت دیتا ہے۔‘‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔