سری نگر میں ہوئے تصادم کے بعد بازاروں میں پھر لوٹی رونقیں

پائین شہر کے اہم تجارتی مراکز جن میں تاریخی جامع مسجد، زینہ کدل، مہاراج گنج شامل ہیں میں اتوار کے روز سبھی دکانیں معمول کے مطابق کھلی تھیں جس سے لوگوں نے راحت کی سانس لی ہے۔

تصویر یو این آئی
تصویر یو این آئی
user

یو این آئی

سری نگر: جموں وکشمیر کے گرمائی دارالخلافہ سری نگر کے پائین شہر میں تین روز کے بعد دکانیں و تجارتی مراکز کھلنے سے بازاروں میں رونقیں پھر لوٹ آئیں۔ یو این آئی اردو کے ایک نامہ نگار، جنہوں نے اتوار کو شہر خاص کا دورہ کیا، نے بتایا کہ ’تین روز تک بازاروں میں جو ویرانی چھائی رہی وہ آج لوگوں کی چہل پہل، دکانیں و تجارتی مراکز کھلنے اور ٹریفک کی مکمل بحالی کے ساتھ ہی ختم ہوئی اور اس طرح پائین شہر کے بازار پھر سے گلزار ہوئے‘۔

انہوں نے کہا کہ ’مزدور اور تجارت پیشہ لوگ اپنے روز مرہ کے کاموں میں جٹ گئے جبکہ دن بھر گراہکوں کی دکانوں پر جم کر خریداری کرنے سے دکانداروں کی کمائی کا تین روزہ سوکھا بھی اختتام کو پہنچا اور اس طرح سے ان کے چہرے کھل اُٹھے‘۔


اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’پائین شہر کے اہم تجارتی مراکز جن میں تاریخی جامع مسجد، زینہ کدل، مہاراج گنج شامل ہیں میں اتوار کے روز سبھی دکانیں معمول کے مطابق کھلی تھیں جس سے لوگوں نے راحت کی سانس لی ہے‘۔ بتا دیں کہ رام باغ سری نگر میں ہوئے تصادم کے بعد شہر سری نگر کے بعض علاقوں میں مسلسل تین روز تک کاروباری ادارے ٹھپ ہو کررہ گئے تھے اور ان علاقوں میں بھاری سیکورٹی فورسز کی تعیناتی بھی عمل میں لائی گئی تھی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔