ایس پی سے علیحدہ ہونے کے بعد بی جے پی نے ہمیں شامل ہونے کی تجویز دی تھی: شیوپال یادو

شیوپال یادو نے کہا کہ بی جے پی میں شامل نہیں ہونے اور اپنی پارٹی بنانے کے فیصلے پر مجھے فخر ہے۔ آج بی جے پی کی حالت کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ عام لوگ بی جے پی کے خلاف بول رہے ہیں۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

اٹاوہ: پرگتی شیل سماج وادی پارٹی (پی ایس پی) کے صدر شیوپال سنگھ یادو نے انکشاف کرتے ہوئے دعو ی کیا ہے کہ سماجوادی پارٹی (ایس پی) سے علیحدہ ہونے کے بعد بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے ان کو پارٹی میں شامل ہونے کی تجویز دی تھی، لیکن انہوں نے اس تجویز کو مسترد کرتے ہوئے اپنی خود کی پارٹی بنائی۔

اٹاوہ میں ایک پرائیویٹ اسکول کی شروعات کے موقع پر اپنے خطاب میں شیوپال نے کہا کہ بلا شبہ انہوں نے پارٹی بنالی ہے لیکن اس کے باوجود آج بھی ان کے اپنے لوگ ان کی جماعت کو بی جے پی کی بی ٹیم بتاکر طرح طرح کی باتیں کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی میں شامل نہیں ہونے اور اپنی پارٹی بنانے کے فیصلے پر مجھے فخر ہے۔ آج بی جے پی کی حالت کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ عام لوگ بی جے پی کے خلاف بول رہے ہیں۔

2022 کے اسمبلی انتخابات میں ایس پی کے ساتھ اتحاد کے لئے بے تاب شیوپال نے 2019 کے پارلیمانی انتخابات میں ایس پی۔بی ایس پی اتحاد پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ بی ایس پی۔ایس پی کے مابین اتحاد ہوا جس کا نتیجہ سب کے سامنے آچکا ہے۔ اب اگر بی ایس پی۔بی جے پی کی دوستی ہو رہی ہے تو پھر بی جے پی کو کیا فائدہ پہنچے گا، یہ تو تب پتہ چلے گا جب نتیجے آئیں گے۔

لوجہاد پر قانون بنانے کے وزیراعلی کے بیان پر شیوپال یادو نے کہا کہ پہلے سے ہی کئی قوانین بنے ہوئے ہیں۔ ان کا صحیح طریقہ سے نفاذ کیا جائے تو کسی دیگر قانون کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ لوگوں کو سمجھانے کے لئے اخلاقی تعلیم کا انتظام کیا جائے یہ بہت ہی بہتر رہے گا۔

شیوپال یادو نے کہا کہ بہن جی (مایاوتی) کے بارے میں ہر کوئی اچھی طرح سے واقف ہے کہ ان کی تاریخ کیسی رہی ہے۔ نیتا جی کو بھی انہوں نے بدنام کیا ہے جبکہ نیتاجی آج کی تاریخ میں ہر جماعت کے لئے قابل احترام لیڈر بنے ہوئے ہیں۔ بی جے پی کے ساتھ مل کر بی ایس پی نے تین بار حکومت بنائی ہے اگر بی ایس پی کے اراکین اسمبلی ٹوٹ رہے ہیں تو پھر اس میں کسی دیگر کا کیا قصور ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ بہن جی کے اراکین اسمبلی ٹکٹ تقسیم اور استحصال کی وجہ سے ان سے دور جا رہے ہیں۔ بی جے پی کے وزیر محسن رضا کے بیان پر انہوں نے کہا کہ ان کی پارٹی ہمیشہ سے سخت گیروں کے خلاف رہی ہے کبھی بھی سخت گیروں کی حمایت پارٹی نے نہیں کی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔