اپوزیشن اجلاس کے بعد پارلیمنٹ میں کے سی وینوگوپال کا بیان، حدبندی بل کو وفاقی ڈھانچے پر حملہ قرار دیا
اپوزیشن اجلاس کے بعد کے سی وینوگوپال نے پارلیمنٹ میں حدبندی بل کو وفاقی ڈھانچے پر حملہ قرار دیا اور حکومت پر آئینی نظام کو کمزور کرنے کا الزام لگایا

نئی دہلی: پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس کی کارروائی شروع ہونے سے قبل اپوزیشن کی اہم میٹنگ کے بعد کانگریس کے جنرل سکریٹری (تنظیم) کے سی وینوگوپال نے لوک سبھا میں حدبندی سے متعلق مجوزہ بل پر سخت تنقید کی اور اسے ہندوستان کے وفاقی ڈھانچے پر براہ راست حملہ قرار دیا۔ ان کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اپوزیشن جماعتیں اس معاملے پر متحد ہو کر حکومت کے خلاف حکمت عملی بنا رہی ہیں۔
ایوان میں خطاب کرتے ہوئے کے سی وینوگوپال نے کہا کہ حکومت خواتین ریزرویشن کے نام پر ایک ایسا عمل آگے بڑھا رہی ہے جس کا اصل مقصد آئینی توازن کو متاثر کرنا ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ 2023 میں پارلیمنٹ نے خواتین کے لیے 33 فیصد ریزرویشن کا قانون منظور کیا تھا اور اس وقت اپوزیشن نے مطالبہ کیا تھا کہ اسے 2024 کے انتخابات میں ہی نافذ کیا جائے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب اس قانون پر اتفاق ہو چکا تھا تو اسے فوری طور پر نافذ کیوں نہیں کیا گیا۔ ان کے مطابق حکومت نے اس وقت مردم شماری اور حدبندی کو شرط بنا کر اس عمل کو مؤخر کر دیا اور اب یہ کہا جا رہا ہے کہ یہ دونوں مراحل 2029 سے پہلے ممکن نہیں ہیں، جس سے حکومت کی نیت پر سوال کھڑے ہوتے ہیں۔
کے سی وینوگوپال نے حکومت پر الزام لگاتے ہوئے کہا کہ وہ آئینی تحفظات کو ’ہائی جیک‘ کرنا چاہتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو عوام کے مزاج کا اندازہ ہے اور وہ 2029 کے انتخابات کے حوالے سے فکرمند ہے، اسی لیے ایک ایسا راستہ اختیار کیا جا رہا ہے جس کے ذریعے سیاسی نقصان سے بچا جا سکے۔ انہوں نے اس بل کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے اسے واپس لینے کا مطالبہ کیا۔
یہ بیان اپوزیشن کی اس مشترکہ میٹنگ کے فوراً بعد سامنے آیا، جس میں کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے، لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی اور انڈیا اتحاد کے دیگر رہنما شریک ہوئے۔ اس میٹنگ میں حدبندی اور خواتین ریزرویشن سے متعلق بلوں کے خلاف مشترکہ لائحہ عمل طے کیا گیا اور پارلیمنٹ میں متحد ہو کر حکومت کا مقابلہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
اپوزیشن کا موقف ہے کہ وہ خواتین ریزرویشن کے خلاف نہیں بلکہ اس کے نفاذ کے طریقۂ کار اور حدبندی کے عمل پر اعتراض رکھتی ہے۔ اپوزیشن رہنماؤں کا کہنا ہے کہ خواتین ریزرویشن کو ایک پردے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے جبکہ اصل ایجنڈا سیاسی توازن کو تبدیل کرنا ہے۔
اپوزیشن نے واضح کیا ہے کہ وہ پارلیمنٹ کو ہائی جیک کرنے کی کسی بھی کوشش کو کامیاب نہیں ہونے دے گی اور جمہوریت کے تحفظ کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔ پارلیمنٹ میں جاری بحث کے ساتھ یہ معاملہ مزید شدت اختیار کرتا دکھائی دے رہا ہے اور آنے والے دنوں میں اس کے دور رس سیاسی اثرات سامنے آ سکتے ہیں۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔