قومی

يوگی حکومت: الہ آباد یونیورسٹی میں ہوا طالب علم کا قتل

اتر پردیش میں واقع الہ آباد یونیورسٹی ایک بار پھر سرخیوں میں ہے، پیر کے روز یہاں کے ایک طالب علم کا گولی مار کر قتل کر دیا گیا، خبروں کے مطابق طالب علم کا قتل یونیورسٹی کے پی سی بی ہاسٹل میں کیا گیا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

قومی آوازبیورو

یوگی حکومت میں مجرموں کا ننگا ناچ جاری ہے، حال ہی میں مجرموں نے بی ایچ يو کیمپس میں گھس کر ایک طالب علم کا قتل کردیا تھا اب تازہ معاملہ الہ آباد یونیورسٹی کے ہاسٹل کا ہے جہاں ایک طالب علم کو گولی مار کر قتل کرنے کی خبر سامنے آئی ہے، واردات کے بعد پولس معاملے کی جانچ میں لگی ہے، طالب علم کی شناخت روہت شکلا کے طور پر ہوئی ہے، روہت پرياگ راج کے باڑہ تھانہ علاقے کا رہنے والا تھا۔

خبروں کے مطابق یونیورسٹی کے طلبا دھڑوں میں تسلط کو لے کر اس واقعہ کو انجام دینے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے، روہت کے قتل کی خبر ملنے کے بعد بڑی تعداد میں طالب علم وہاں جمع ہو گئے اور ہنگامہ آرائی کرنے لگے، احتیاطاً ہاسٹل کے آس پاس کافی مقدار میں پولس فورس تعینات کر دی گئی، روہت شکلا کے قتل کے معاملے میں تین طالب علموں پر الزام لگ رہا ہے۔ جن طالب علموں پر قتل کا الزام لگ رہا ہیں ان کے نام آدرش ترپاٹھی، وشوکرما اور ابھیشیک یادو ہیں جو کہ فرار بتائے جا رہے ہیں۔ موقع پر پہنچے روہت کے اہل خانہ نے قتل کیس میں طالب علم رہنما آدرش ترپاٹھی، نونیت یادو سمیت چھ کے خلاف تحریر دی ہے، پولس ملزمان کی تلاش میں لگ گئی ہے۔

اس سے پہلے 2 اپریل 2019 میں ہی وارانسی میں بنارس ہندو یونیورسٹی کے احاطے میں ایک طالب علم کو گولی مار کر قتل کر دیا گیا تھا، اس واقعہ کے بعد سے احاطے میں کشیدگی پھیل گیا تھی، پولس نے اس قتل کی واردات میں 4 لوگوں کو گرفتار کیا تھا۔

Published: 15 Apr 2019, 12:09 PM