الہ آباد یونیورسٹی طلبہ یونین لیڈر کا گولی مار کر قتل

الہ آبادیونیوسٹی ہاسٹل میں دیر رات آپسی تنازعہ کے بعد گولی چلی، زخمی طلبا لیڈر کو نزدیک کے ایس آر این اسپتال میں داخل کرایا گیا جہاں علاج کے دوران علی الصبح اس کی موت ہوگئی۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

یو این آئی

پریاگ راج: الہ آباد یونیورسٹی کے سابق طلبا لیڈر کی پرانی رنجش میں کچھ طالب علموں نے گولی مارکر قتل کر دیا۔ پولس ذرائع کے مطابق ضلع گونڈہ کے ترب گنج گاوں کے رہنے والے لیڈر اچیوتانند شکلا عرف سمت (30) کئی معاملوں میں مطلوب تھا۔

کرنل گنج تھانہ علاقے میں الہ آبادیونیوسٹی ہاسٹل میں دیر رات آپسی تنازعہ کی وجہ سے اسے کچھ طالب علموں نے گولی مار دی۔ گولی لگنے سے زخمی طلبا لیڈر کو نزدیک کے ایس آر این اسپتال میں داخل کرایا گیا جہاں علاج کے دوران علی الصبح اس کی موت ہوگئی۔

انہوں نے بتایا کہ حال ہی میں ہوئے الہ آباد یونیورسٹی طلبا یونین انتخاب میں کافی رسوخ رکھنے کی وجہ سے لاقانونیت کو دیکھتے ہوئے انتخاب میں پرچہ نامزدگی والے دن گولہ باری کے واقعات کے بعد پولیس انتظامیہ نے اچیوتانند، ابھیشیک سنگھ، مائکل، ابھیشیک سنگھ سونو، آکاش سنگھ اور اجیت یادو پر 25۔25 ہزار روپیے کے انعام کا اعلان کیا تھا۔ اس کی گرفتاری کی ذمہ داری ایس ٹی ایف کو دی گئی تھی، پولیس ان کی تلاش میں ہے۔

واقعہ کے بعد الہ آباد یونیورسٹی کے یونین ہال کے سامنے اور سڑک پر ہزاروں کی تعداد میں طلبہ کے اکٹھا ہوتا دیکھ کر سیکورٹی کے پیش نظر کئی مقامات کی پولیس کو تعینات کیا گیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ طلبا لیڈر نے لاش کو پولیس سیکورٹی میں اس کے گاؤں بھیج دیا گیا ہے۔

الہ آباد یونیورسٹی کے وائس چانسلر رام سیوک دوبے نے بتایا کہ اچیوتانند 2013 میں یونیورسٹی کا طالب علم تھا۔ اس کے بعد وہ یہاں کا طالب علم نہیں تھا۔ یونیورسٹی ذرائع کے مطابق اچیوتانند 2013 میں جنرل سکریڑی کے عہد پر انتخاب لڑ چکا ہے ۔ اسی سلسلسے میں اچیوتانند کی طرف سے ابھیمینو شکلا نے سی ایم پی کالج کے طلبا یونین کے صدر آشوتوش ترپاٹھی، ہرکیش مشرا اور شوربھ سنگھ عرف پرنس کے خلاف نامزد رپورٹ درج کرایا ہے۔ پولیس ملزموں کو تلاش کر رہی ہے۔

Published: 1 Nov 2018, 10:09 PM