قومی

بی جے پی چھوڑنے پر اڈوانی جی کی آنکھیں نم ہو گئی تھیں، لیکن مجھے روکا نہیں: شتروگھن

اپنی بے باک رائے رکھنے والے کانگریس لیڈر شتروگھن سنہا کا کہنا ہے کہ بی جے پی بہت بدل چکی ہے۔ اٹل بہاری واجپئی اور آج کے وقت میں بہت فرق ہے۔ اس وقت ملک میں جمہوریت تھی، آج تاناشاہی ہے۔

تصویر سوشل میڈیا

قومی آوازبیورو

بی جے پی چھوڑ کر کانگریس میں شامل ہوئے شتروگھن سنہا نے آخری مرحلہ کی پولنگ سے قبل ایک نیا انکشاف کیا ہے۔ پٹنہ صاحب پارلیمانی حلقہ سے کانگریس امیدوار اور سابق بالی ووڈ اداکار شتروگھن کا کہنا ہے کہ ’’بی جے پی چھوڑنے کے میرے فیصلے پر اڈوانی جی کی آنکھوں میں آنسو آ گئے تھے۔ حالانکہ انھوں نے یہ قدم اٹھانے سے مجھے روکا نہیں۔‘‘ شتروگھن سنہا نے مزید بتایا کہ ’’نئی سیاسی پاری شروع کرنے سے قبل میں نے اڈوانی جی کا آشیرواد لیا تھا اور وہ میرے فیصلے سے جذباتی ہو گئے۔ انھوں نے مجھے مبارکبادیاں دیں اور نم آنکھوں کے ساتھ نیک خواہشات کا اظہار کیا۔‘‘

شتروگھن سنہا نے یہ باتیں ایک ہندی نیوز چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے بتائیں۔ اس انٹرویو کے دوران انھوں نے بی جے پی سے منسلک اپنی یادوں اور بی جے پی کے سرکردہ لیڈروں کے بارے میں بھی کئی باتیں کیں۔ شتروگھن سنہا نے کہا کہ ’’اٹل بہاری واجپئی جی اور آج کے وقت میں زمین آسمان کا فرق آ گیا ہے۔ اس وقت ملک میں جمہوریت تھی، لیکن آج تاناشاہی کا ماحول ہے۔ آج بی جے پی اپنے سینئر اور بزرگ لیڈروں کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کر رہی ہے۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ ’’اڈوانی جی بی جے پی کے بانی اراکین میں سے ایک ہیں۔ انھیں ہی گاندھی نگر سیٹ سے ٹکٹ نہیں دیا گیا۔‘‘

شتروگھن سنہا نے بات چیت کے دوران دعویٰ کیا کہ ٹکٹ کٹنے سے اڈوانی جی کافی زیادہ غمزدہ تھے۔ انھیں سب سے زیادہ تکلیف اس بات کی تھی کہ ٹکٹ کاٹنے کے بارے میں انھیں بتایا تک نہیں گیا تھا۔ اپنے بی جے پی چھوڑنے کے تعلق سے شتروگھن نے بتایا کہ ’’بی جے پی چاہتی تھی کہ جب وہ بیٹھنے کو کہے تو میں بیٹھ جاؤں اور جب کھڑا ہونے کو کہے تو میں کھڑا ہو جاؤں، لیکن میں ان کے سامنے کبھی نہیں جھکوں گا۔‘‘

اس درمیان شتروگھن سنہا نے پی ایم مودی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور نیشنلزم جیسے ایشوز پر اپنی بات رکھی۔ انھوں نے کہا کہ ’’آج ہر ہندوستانی حب الوطن ہے۔ اگر پی ایم مودی سے کوئی بے روزگاری جیسے ایشوز پر بات کرے تو وہ پلوامہ کی یاد دلانے لگتے ہیں۔ وہ عوام کے اصل ایشوز پر جواب نہیں دے رہے ہیں۔‘‘ وہ آگے کہتے ہیں کہ ’’مودی 23 مئی کے بعد پی ایم نہیں رہیں گے۔ ممتا بنرجی نے انھیں ایکسپائری پی ایم کہا ہے جو درست ہے۔ انتخابی نتائج برآمد ہونے کے بعد انھیں جھولا اٹھا کر جانا ہی ہوگا۔‘‘

Published: 15 May 2019, 1:10 PM