مودی حکومت میں اڈانی نہ صرف ملک کو لوٹ رہا، بلکہ سچائی دکھانے والوں کو سزا بھی دے رہا ہے: کانگریس

کانگریس نے ’رپورٹرس وِداؤٹ بارڈرس‘ کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر آپ صحافی ہیں اور مودی کے دوست اڈانی کے خلاف لکھتے ہیں تو آپ کی خیر نہیں۔ آپ کے اوپر مقدمہ ہو سکتا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>پی ایم مودی اور گوتم اڈانی، تصویر @INCIndia</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

’رپورٹرس وِداؤٹ بارڈرس‘ (آر ایس ایف) کی ایک رپورٹ سرخیوں میں ہے۔ رپورٹ میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ اڈانی گروپ نے صحافیوں کے خلاف ’قانونی جنگ‘ شروع کر رکھی ہے، جس سے سچائی سامنے لانے والے صحافیوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ اس معاملہ میں کانگریس نے وزیر اعظم مودی اور اڈانی دونوں کو ہدف تنقید بنایا ہے۔ پارٹی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری ایک پوسٹ میں لکھا ہے کہ ’’اگر آپ صحافی ہیں اور مودی کے دوست اڈانی کے خلاف لکھتے ہیں، تو آپ کی خیر نہیں۔ آپ کے اوپر مقدمہ ہو سکتا ہے۔‘‘

اس پوسٹ میں کانگریس نے ’رپورٹرس وداؤٹ بارڈرس‘ کی رپورٹ کا حوالہ دیا ہے۔ اس میں لکھا گیا ہے کہ ’’رپورٹرس وداؤٹ بارڈرس نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ اڈانی 2017 سے صحافیوں اور میڈیا اداروں پر مہنگے اور طویل چلنے والے مقدمات ٹھوک رہے ہیں، جس سے صحافی ڈر جائیں اور اڈانی کے سیاہ کارناموں کا بھنڈاپھوڑ کرنا بند کر دیں۔‘‘ اس پوسٹ میں مودی حکومت کو نشانے پر لیتے ہوئے لکھا گیا ہے کہ ’’مودی حکومت میں اڈانی نہ صرف ملک کو لوٹ رہا ہے، بلکہ سچ دکھانے والوں کو اپنے حساب سے ’سزا‘ بھی دے رہا ہے۔‘‘


کانگریس نے مودی حکومت میں صحافت کا معیار خراب ہونے کا ذکر بھی اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں کیا ہے۔ اس نے لکھا ہے کہ ’’نریندر مودی کی بدولت ’پریس فریڈم انڈیکس‘ میں ہندوستان 151ویں مقام پر ہے، جہاں سچ لکھنے، دکھانے، بولنے اور سوچنے کی آزادی چھین لی گئی ہے۔‘‘ آخر میں کانگریس تلخ انداز اختیار کرتے ہوئے مودی حکومت سے کہتی ہے کہ ’’شرم آنی چاہیے۔‘‘

قابل ذکر ہے کہ ’رپورٹرس وداؤٹ بارڈرس‘ نے 4 فروری کو اپنی ویب سائٹ پر یہ رپورٹ شائع کی تھی، جو سرخیوں میں ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ ارب پتی گوتم اڈانی کی قیادت والا یہ کارپوریٹ گروپ گزشتہ کئی سالوں سے تحقیقاتی صحافت کرنے والے صحافیوں اور میڈیا اداروں کے خلاف طویل، مہنگی اور خوفزدہ کرنے والی قانونی کارروائیوں کا سہارا لے رہا ہے، جس سے ہندوستان میں پریس کی آزادی سنگین طور سے متاثر ہو رہی ہے۔ آر ایس ایف نے اڈانی گروپ سے ان مقدمات کو بند کرنے کی اپیل کی ہے اور ہندوستانی پارلیمنٹ سے ’اسٹریٹجک لاء سوٹس اگینسٹ پبلک پارٹسپیشن‘ کے خلاف ایک واضح قانون بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔ ادارہ کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں ایسا قانون پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہو گیا ہے۔


اس معاملے میں آر ایس ایف کی جنوبی ایشیا ڈیسک چیف سیلیا مرسیے اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اڈانی گروپ کے ذریعہ تحقیقاتی صحافیوں پر کی جا رہی قانونی کارروائی ہندوستان میں میڈیا کی آزادی کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ بار بار مقدمات دائر کر کسی بڑے کارپوریٹ گروپ کی جانچ کی حوصلہ شکنی کرنے کی یہ حکمت عملی بے حد فکر انگیز ہے۔ ان معاملوں میں اکثر قانونی عمل ہی ’سزا‘ بن جاتی ہے۔ ہندوستانی افسران کو چاہیے کہ وہ نظامِ انصاف کے غلط استعمال کو روکیں اور صحافیوں کی آواز دبانے کی کوششوں پر لگام لگائیں۔ آر ایس ایف کی رپورٹ میں ’دی وائر‘، ’ای پی ڈبلیو‘، ’نیوز کلک‘، ’نیوز لانڈری‘، ’دی اکونومک ٹائمز‘ جیسے اداروں اور روی نایر، ابھیسار شرما، رویش کمار، پرنجوئے گوہا ٹھاکرتا جیسے صحافیوں سے متعلق کئی معاملوں کا تفصیل سے ذکر کیا گیا ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔