اعظم خان کے کنبہ پر کارروائیوں کا سلسلہ جاری، عبداللہ اعظم کے خلاف ایک اور ایف آئی آر درج

عبداللہ اعظم کے خلاف 2017 کے اسمبلی انتخابات کے لیے نامزدگی ميں جھوٹا حلف نامہ دینے کے الزام میں عوامی نمائندگی ایکٹ کی دفعہ 125-A کے تحت رپورٹ درج کی گئی ہے۔

تصویر آئی اے این ایس
تصویر آئی اے این ایس
user

یو این آئی

رام پور: سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے رکن پارلیمنٹ اعظم خان کے کنبہ کی پریشانی کم ہونے کا نام نہیں لے رہی ہیں اور اب یہاں سوار کوتوالی میں ان کے بیٹے عبداللہ اعظم کے خلاف 2017 کے اسمبلی انتخابات کے لیے نامزدگی ميں جھوٹا حلف نامہ دینے کے الزام میں عوامی نمائندگی ایکٹ کی دفعہ 125-A کے تحت رپورٹ درج کی گئی ہے۔ یہ رپورٹ انچارج ریونیو انسپکٹر سومپال سنگھ نے درج کرائی ہے۔

ذرائع کے مطابق عبد اللہ اعظم 2017 کے اسمبلی انتخابات میں سوار اسمبلی حلقہ سے ایس پی کے امیدوار تھے۔ اسمبلی انتخابات میں نامزدگی داخل کرتے وقت انہوں نے اپنی عمر کے لئے جو حلف نامہ دیا تھا وہ متنازعہ ہے۔ تاہم ان کے کاغذات نامزدگی قبول کرلیے گئے اور وہ ایم ایل اے منتخب بھی ہوگئے تھے۔ ان کے خلاف بی ایس پی کے ٹکٹ پر الیکشن لڑنے والے نواب کاظم علی خان عرف نوید میاں نے عبداللہ کے انتخاب کو ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔


نوید میاں کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے ان کا انتخاب ہائی کورٹ نے 16 دسمبر 2019 کو منسوخ کردیا تھا۔ عدالت کے فیصلے کو بنیاد قرار دیتے ہوئے اسمبلی سکریٹریٹ نے اس نشست کو خالی قرار دیا ہے اور عبداللہ کو بطور ایم ایل اے وصول شدہ تنخواہوں اور الاؤنس کی وصولی کا نوٹس بھی دیا ہے۔

اس معاملے میں اب سوار حلقہ کے انچارج ریونیو انسپکٹر سومپال سنگھ کی تحریر کی بنیاد پر عبداللہ اعظم کے خلاف عوامی نمائندگی ایکٹ 1950، 1951 اور 1989 کی دفعہ 125-A کے تحت ایک رپورٹ درج کی گئی ہے۔ تحریر میں کہا گیا ہے کہ عبداللہ اعظم کے ذریعہ اپنی غلط عمر بتانے کے لیے داخل حلف نامہ عوامی نمائندگی ایکٹ کی خلاف ورزی ہے۔


ادھر پولیس سپرنٹنڈنٹ شگون گوتم کا کہنا ہے کہ تحریر کی بنیاد پر ایک رپورٹ درج کی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سوار کوتوالی میں عبداللہ اعظم کے خلاف پہلے ہی 44 مقدمات درج ہیں۔ وہ ابھی دو معاملوں میں ضمانت پر باہر ہیں۔ عبداللہ اعظم نے اپنے والد اعظم خان اور والدہ تزئین فاطمہ کے ہمراہ 26 فروری 2020 کو عدالت میں خودسپردگی کی تھی۔ تزئین فاطمہ ضمانت پر جیل سے باہر آچکی ہیں، لیکن اعظم خان اور عبداللہ تاحال سیتا پور جیل میں قید ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔