خوتین پولیس اہلکاروں پر کارروائی کی تیاری، پرینکا نے کہا- اگر میرے ساتھ تصویر لینا جرم ہے تو سزا مجھے دی جانی چاہیے

کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گندھی کو لکھنؤ کے مضافات میں روکے جانے کے دوران ڈیوٹی پر موجود خواتین پولیس اہلکاروں نے پرینکا کے ساتھ سیلفی لی تھی، جو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی ہے۔

پرینکا گاندھی، تصویر آئی اے این ایس
پرینکا گاندھی، تصویر آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی کے ساتھ سیلفی لینے والی اتر پردیش کی خواتین پولیس اہلکاروں کی مشکلات میں اضافہ ہوگیا ہے۔ لکھنؤ پولیس کمشنر ڈی کے ٹھاکر نے کہا ہے کہ پرینکا گاندھی کے ساتھ سیلفی لینے والی خواتین کانسٹیبلوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی کو لکھنؤ کے مضافات میں روکے جانے کے دوران ڈیوٹی پر موجود خواتین پولیس اہلکاروں نے ان کے ساتھ سیلفی لی تھی، جو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی ہے۔ تصویروں میں پرینکا گاندھی اور خواتین پولیس اہلکاروں کو مسکراتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔


وہیں پرینکا گاندھی نے اس خبر پر سخت رد عمل کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر میرے ساتھ تصویر کھینچوانا جرم ہے تو سزا مجھے دی جانی چاہیے، خواتین پولیس اہلکاروں پر الزام کیوں؟ آگرہ میں پولیس حراست میں صفائی ملازم ارون والمیکی کی موت کے بعد پرینکا گاندھی بدھ کو صفائی ملازم کے اہل خانہ سے ملنے جا رہی تھیں۔ راستے میں پرینکا گاندھی کو پولیس نے حراست میں لے لیا تھا۔ اس دوران خواتین پولیس اہلکاروں نے پرینکا گاندھی کے ساتھ سیلفی لی تھی۔

پرینکا گاندھی کو یوپی پولیس نے حراست میں رکھنے کے چند گھنٹے بعد رہا کر دیا۔ اس کے بعد پرینکا گاندھی نے آگرہ جا کر صفائی ملازم ارون والمیکی کے گھر والوں سے ملاقات کی۔ اس دوران انہوں نے خاندان کو ہر ممکن مدد کی یقین دہانی کرائی اور پولیس اور یوگی حکومت کو نشانہ بنایا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔