مردم شماری کے دوران عوام سے نامناسب سوالات پوچھنے پر ہوگی کارروائی، نظرثانی شدہ نوٹیفکیشن جاری

ہرشہری کو مردم شماری کے سوالات کا جواب دینا ہوگا مگر کسی فرد کو اپنے خاندان کی خاتون رکن کا نام بتانے کے لیے مجبور نہیں کیا جا سکتا ہے۔ کوئی بھی خاتون اپنے شوہر کا نام بتانے کے لیے مجبور نہیں ہوگی۔

<div class="paragraphs"><p>دہلی واقع مردم شماری بھون، تصویر سوشل میڈیا</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

ایس آئی آر کا تجربہ کرنے کے بعد ملک کے عوام اب مردم شماری کے لئے جواب دینے کی تیاری کرلیں کیونکہ اس سلسلے حکومت نے قدم بڑھادیئے ہیں۔ مردم شماری کے دوران ہر شہری پر لازم ہے کہ وہ مردم شماری کے اہلکاروں کی جانب سے پوچھے گئے سوالات کا صحیح جواب دیں۔ جان بوجھ کر غلط جواب دینے یا جواب دینے سے انکار کرنے والوں کو قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس کے علاوہ مردم شماری کے لیے گھروں کے باہر لگائے گئے نشانات یا نمبروں کو ہٹانے، خراب کرنے یا مٹانے والوں کو بھی قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اگر مردم شماری عملہ بھی کسی بے ضابطگی کا مرتکب ہوتا ہے تو اس پر بھی کارروائی ہوگی۔ وہ جان بوجھ کر نامناسب سوال نہیں کر سکتے۔ ایسا کرنے والوں یا غلط معلومات تیار کرنے والوں کو بھی قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

ہندوستان کے رجسٹرار جنرل اور مردم شماری کمشنر کے دفترنے حال ہی میں مردم شماری ایکٹ 1948 اور مردم شماری کے قواعد (ترمیم) کے حوالے سے ایک نوٹیفکیشن جاری کیا ہے۔ مردم شماری کا پہلا مرحلہ رواں سال شروع ہونے والا ہے۔ اس سلسلے میں ملک بھر میں تیاریاں جاری ہیں۔ مردم شماری سے متعلق ضوابط سے مردم شماری عملے کو واقف کرایا جائے اور انہیں پہلے مرحلے کے لیے سوالنامہ فراہم کیا جائے گا۔ اس حوالے سے جلد نوٹیفکیشن بھی جاری ہونے کا امکان ہے۔


ہرشہری کو مردم شماری کے سوالات کا جواب دینا ہوگا مگر کسی بھی فرد کو اپنے خاندان کی خاتون رکن کا نام بتانے کے لیے مجبور نہیں کیا جا سکتا ہے۔ کوئی بھی خاتون اپنے شوہر یا انتقال کرچکے شوہر کا نام بتانے کے لیے مجبور نہیں ہوگی۔ اس کے علاوہ کسی گھر، احاطے یا دوسری جگہ کا استعمال کرنے والا مردم شماری سے متعلق افسران کو مردم شماری کے لیے اس میں داخل ہونے یا خطوط ،نشانات لگانے کی اجازت دینے کا پابند ہوگا۔

اسی طرح کوئی بھی شہری مردم شماری کے ریکارڈ کا معائنہ نہیں کر سکتا۔ کسی بھی شخص کو مردم شماری افسران کے ذریعہ تیار کردہ رجسٹر یا ریکارڈ کا معائنہ کرنے کا حق نہیں ہوگا۔ کوئی بھی شخص جو مردم شماری دفتر میں زبردستی داخل ہوگاتو وہ سزا کا حقدار ہوگا۔ اس کے علاوہ اگر مردم شماری عملے نے مردم شماری کے کسی دستاویز کو چھپانے، اس کو نقصان پہنچانے یا اسے تباہ کرنے کا کام کیا تو اسے بھی قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ وہ کسی ایسی سرگرمی میں ملوث نہیں ہوں گے جس سے مردم شماری کے نتائج  میں گڑبڑی کا امکان ہو۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔