ممبئی میں لاؤڈ اسپیکر کی تیز آواز ہونے کے سبب دو مساجد پر کارروائی، مقدمہ درج

مہاراشٹر نو نرمان سینا کے صدر راج ٹھاکرے نے مہاراشٹر میں لاؤڈ اسپیکر کے خلاف ریاست گیر مہم شروع کی ہوئی ہے۔

مسجد، علامتی تصویر آئی اے این ایس
مسجد، علامتی تصویر آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

ممبئی پولیس نے صوتی آلودگی کے اصولوں کی خلاف ورزی کرنے پر دو مساجد کے خلاف کارروائی کی ہے۔ باندرہ ویسٹ میں نورانی مسجد اور سانتا کروز ویسٹ میں مسلم قبرستان کی مسجد کو مہاراشٹر پولیس ایکٹ اور آئی پی سی کی دفعہ 188 کے تحت کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

پولیس نے دونوں مساجد کے اماموں انور اے ایم شبیر شاہ اور عارف ایم صدیقی اور سانتا کروز مسجد کے منیجنگ ٹرسٹی ایم شعیب اور اے ستار شیخ کے خلاف بھی مقدمہ درج کیا ہے۔ وہ رات 10 بجے سے صبح 6 بجے کے درمیان مساجد میں اذان کے لیے لاؤڈ اسپیکر استعمال کرتے تھے۔ جو سپریم کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی ہے۔


ممبئی میں ایک اندازے کے مطابق 1,140 مساجد میں سے 90 فیصد سے زیادہ مساجد نے یا تو اپنے لاؤڈ اسپیکرز کو ہٹا دیا ہے یا خاموش کر دیا ہے۔ ایڈیشنل کمشنر آف پولیس نے کہا کہ پولیس کی طرف سے کچھ دیگر مساجد کی نگرانی کی جا رہی ہے۔ پولیس مساجد کی کڑی نگرانی کر رہی ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ مسجد انتظامیہ سپریم کورٹ کی ہدایات پر سختی سے عمل کر رہے ہیں یا نہیں۔

مہاراشٹر نو نرمان سینا کے صدر راج ٹھاکرے نے مہاراشٹر میں لاؤڈ اسپیکر کے خلاف ریاست گیر مہم شروع کی ہوئی ہے۔ ٹھاکرے نے دھمکی دی تھی کہ مساجد سے لاؤڈ اسپیکر ہٹا دیئے جائیں، ورنہ ہم تمام مساجد کے سامنے ہنومان چالیسہ کو اونچی آواز میں گائیں گے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔