امریکہ پاکستان میں مانگ رہا تھا فوجی اڈہ، جس کی وجہ سے ان کی حکومت چلی گئی: عمران خان

عمران نے کہا کہ پاکستان کے 80000 لوگ پہلے ہی امریکہ کی زیر قیادت "دہشت گردی کے خلاف جنگ" میں اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔ اس کے باوجود ان کی قربانیوں کو کبھی سراہا نہیں گیا، بلکہ ہم پر الزام لگائے۔

عمران خان کی فائل تصویر آئی اے این ایس
عمران خان کی فائل تصویر آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان نے بڑا دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ پاکستان میں فوجی اڈے بنانے کا مطالبہ کر رہا تھا تاکہ وہ یہاں سے افغانستان کے دہشت گردوں پر جوابی حملے کر سکے۔ لیکن میں ان کے مطالبات پر کبھی راضی نہیں ہوا اور یہیں سے ہمارے درمیان مسائل شروع ہوگئے۔ عمران کو گزشتہ ماہ وزیراعظم کے عہدے سے استعفیٰ دینا پڑا تھا۔

عمران خان نے کہا کہ امریکہ پاکستان میں فوجی اڈہ بنانا چاہتا ہے تاکہ وہ یہاں سے افغانستان کے دہشت گردوں پر جوابی حملے کر سکے۔ لیکن میں نے انکار کر دیا۔ عمران خان نے مزید کہا کہ پاکستان کے 80,000 لوگ پہلے ہی امریکہ کی زیر قیادت 'دہشت گردی کے خلاف جنگ' میں اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔ اس کے باوجود ان کی قربانیوں کو کبھی سراہا نہیں گیا بلکہ امریکی سیاستدانوں نے ہمارا احتساب کرنا شروع کر دیا۔


ان کا مزید کہنا تھا کہ پہلے انہوں نے ہمیں مورد الزام ٹھرایا، پھر ہمارے ملک اور قبائلی علاقوں کو تباہ کیا۔ اس کے بعد انہوں نے فوجی اڈوں کا مطالبہ شروع کر دیا۔ لیکن میں اس کے لیے کبھی تیار نہیں ہوا اور یہیں سے ہمارے درمیان مسائل شروع ہو گئے۔ ایک طرح سے عمران خان نے اشاروں اشاروں میں امریکہ کے اس مطالبے کے سبب گزشتہ ماہ ملک میں ان کی حکومت جانے کی وجہ قرار دیا ہے۔

’ڈان‘ کی رپورٹ کے مطابق عمران خان نے جون 2021 میں ایک انٹرویو میں واضح طور پر کہا تھا کہ پاکستان امریکہ کو فوجی اڈے اور اپنی سرزمین استعمال کرنے کی ہر گز اجازت نہیں دے گا۔ عمران خان کا نیا بیان حالیہ پوڈ کاسٹ میں کیے گئے تبصروں کے مطابق تھا، جہاں انہوں نے کہا تھا کہ افغانستان میں امریکا بین الاقوامی دہشت گردی کو روکنے کے لیے یہاں پناہ گاہیں تلاش کر رہا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔