لکھنؤ میں پرینکا گاندھی کے ’خاموش دھرنے‘ پر کارروائی! 600 کانگریس لیڈران و کارکنان پر ایف آئی آر

یو پی کانگریس صدر اجے کمار للو، وید پرکاش ترپاٹھی اور دلپریت سنگھ سمیت تقریباً 600 نامعلوم کانگریسیوں پر کووڈ پروٹوکول کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

تصویر ٹوئٹر @INCUttarPradesh
تصویر ٹوئٹر @INCUttarPradesh
user

تنویر

اتر پردیش کی راجدھانی لکھنؤ میں جمعہ کے روز کانگریس جنرل سکریٹری اور یو پی انچارج پرینکا گاندھی مہاتما گاندھی کے مجسمہ پر پہنچ کر ’خاموش دھرنے‘ پر بیٹھ گئی تھیں اور یوگی حکومت کے عوام مخالف پالیسیوں و بدتر نظامِ قانون کے خلاف احتجاج درج کیا تھا۔ اب اس تعلق سے مقامی پولیس نے بڑی کارروائی کرتے ہوئے کم و بیش 600 کانگریس لیڈران و کارکنان کے خلاف ایف آئی آر درج کی ہے۔

میڈیا ذرائع سے موصول ہو رہی خبروں کے مطابق ایف آئی آر میں پرینکا گاندھی کا نام شامل نہیں ہے، لیکن یو پی کانگریس صدر اجے کمار للو، وید پرکاش ترپاٹھی اور دلپریت سنگھ سمیت تقریباً 600 نامعلوم کانگریسیوں کے خلاف ایف آئی آر درج ہوئی ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ کووڈ پروٹوکول کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے حضرت گنج تھانہ میں یہ ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔


ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ اجے کمار للو، وید پرکاش ترپاٹھی اور دلپریت سنگھ کانگریس کے دیگر تقریباً 500 سے 600 کارکنان کے ساتھ دوپہر ساڑھے تین بجے اٹل چوک کے پاس جی پی او پر گاندھی مجسمہ کے پاس پہنچے۔ یہاں پر گاندھی مجسمہ پر مالاپوشی کرنے کے بعد بغیر کسی اطلاع اور اجازت کے علامتی ’خاموشی‘ اختیار کی اور مجسمہ کے پاس بیٹھ گئے۔ شکایت میں کہا گیا ہے کہ کانگریس لیڈر تقریباً ڈیڑھ گھنٹے تک وہاں بیٹھے رہے۔ ایف آئی آر میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کانگریس کارکنان نے روڈ کو جام کر دیا اور وہاں لگی جالیاں و دیواریں توڑ دیں جس سے سرکاری ملکیت کو نقصان ہوا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔