مہاراشٹر میں انیل دیشمکھ کے بعد اجیت پوار پر کارروائی، ایک ہزار کروڑ کی املاک ضبط کرنے کا نوٹس

انیل دیشمکھ کی گرفتار کے بعد اب نائب وزیر اعلیٰ اجیت پوار کے خلاف کارروائی شروع ہو گئی ہے، محکمہ انکم ٹیکس نے اجیت پوار سے وابستہ ایک ہزار کروڑ روپے سے زیادہ کی املاک ضبط کرنے کا نوٹس جاری کیا ہے

اجیت پوار،  تصویر آئی اے این ایس
اجیت پوار، تصویر آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

ممبئی: مہاراشٹر میں مرکزی ایجنسیوں کی کارروائی لگاتار جاری ہے۔ ریاست کے سابق وزیر داخلہ انیل دیشمکھ کی گرفتاری کے بعد اب نائب وزیر اعلیٰ اجیت پوار پر کارروائی شروع ہو گئی ہے۔ انیل دیشمکھ کی گرفتار کے بعد اب نائب وزیر اعلیٰ اجیت پوار کے خلاف کارروائی شروع ہو گئی ہے، محکمہ انکم ٹیکس نے اجیت پوار سے وابستہ ایک ہزار کروڑ روپے سے زیادہ کی املاک ضبط کرنے کا نوٹس جاری کیا ہے۔

اجیت پوار کی جن ملکیتوں کو ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے ان میں جرندیشور شوگر فیکٹری (600 کروڑ روپے)، ساؤتھ دہلی میں واقع فلیٹ (20 کرورڑ روپے)، پارتھ پوار کا نرمل آفس (25 کروڑ روپے)، نیلے نام سے گوا میں واقع ریزارٹ (250 کروڑ روپے)، مہاراشٹر میں الگ الگ مقامات پر واقع زمینیں (500 کروڑ روپے) شامل ہیں۔


خیال رہے کہ اجیت پوار مدت طویل سے انکم ٹیکس کے نشانہ پر ہیں۔ گزشتہ مہینے ہی انکم ٹیکس ڈیپارٹمنٹ نے دو ریئل اسٹیٹ گروپوں اور اجیت پوار کے رشتہ داروں کے ٹھکانوں پر چھاپہ ماری کے بعد 184 کروڑ روپے کی بے نامی املاک کا پتا لگایا تھا۔ محکمہ نے 7 اکتوبر کو 70 سے زیادہ ٹھکانوں پر چھاپہ ماری کی تھی۔ اس دوران پوار کے بیٹے پارتھ اور ان کی بہنوں کے مالکانہ حق والی کمپنیوں پر بھی کارروائی کی تھی تھی۔

وہیں، پیر کو دیر رات گئے ای ڈی نے سابق وزیر داخلہ انیل دیشمکھ کو گرفتار کر لیا۔ ان سے 100 کروڑ روپے کی وصولی کے معاملہ میں 12 گھنٹوں تک پوچھ گچھ کی تھی تھی۔ ای ڈی کے مطابق دیشمکھ تسلی بخش جواب نہیں دے پائے، اس لئے انہیں گرفتار کیا گیا۔ دیشمکھ کو عدالت میں پیش کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔