وصولی معاملہ میں ای ڈی کی کارروائی، مہاراشٹر کے سابق وزیر داخلہ انیل دیشمکھ گرفتار

بارہ گھنٹوں کی پوچھ گچھ کے بعد ای ڈی نے پایا کہ دیشمکھ کی طرف سے کسی بھی سوال کا کوئی تسلی بخش جواب نہیں دیا گیا، لہذا انہیں گرفتار کر لیا گیا، اب انہیں عدالت میں پیش کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے

انل دیشمکھ کی فائل تصویرآئی اے این ایس
انل دیشمکھ کی فائل تصویرآئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

ممبئی: وصولی معاملہ میں اہم کارروائی کرتے ہوئے ای ڈی (انفورسمنٹ ڈائریکٹریٹ) نے مہاراشٹر کے سابق وزیر داخلہ انیل دیشمکھ کو گرفتار کر لیا ہے۔ ای ڈی کے مطابق دیشمکھ 12 گھنٹے کی پوچھ گچھ کے بعد کسی بھی سوال کا کوئی تسلی بخش جواب نہیں دے سکے۔ ایسے میں انہیں گرفتار کر لیا گیا اور اب انہیں عدالت میں پیش کرنے کی تیاری کی جاری ہے۔

خیال رہے کہ انیل دیش مکھ پیر کی صبح 11:55 پر بذات خود ای ڈی کے دفتر پہنچے تھے۔ انہیں پہلے بھی کئی بار ای ڈی نے طلب کیا تھا لیکن وہ پوچھ گچھ میں شریک نہیں ہوئے۔ تاہم پیر کے روز وہ ای ڈی کے دفتر بھی پہنچے اور پوچھ گچھ میں بھی شامل ہوگئے۔ ای ڈی نے دیشمکھ سے 12 گھنٹے تک پوچھ گچھ کی لیکن چونکہ ای ڈی کو کوئی بھی جواب درست نہیں لگا اس لیے دیشمکھ کو گرفتار کر لیا گیا۔ ای ڈی نے واضح طور پر کہا ہے کہ مہاراشٹر کے سابق وزیر داخلہ نے تحقیقات میں تعاون نہیں کیا۔


رپورٹ کے مطابق گرفتاری سے پہلے انل دیشمکھ کا بیان ریکارڈ کیا گیا تھا۔ ان تمام ملزمین کے بیانات بھی دیش مکھ کے سامنے رکھے گئے جن کا اس جرم میں سرگرم حصہ تھا لیکن دیشمکھ کسی بھی سوال کا واضح جواب نہیں دے سکے۔ وہ صرف الزامات کی تردید کرتے رہے۔ چنانچہ ای ڈی نے اپنی تحقیقات کی بنیاد پر انہیں گرفتار کر لیا۔

جس معاملے میں انیل دیشمکھ کو گرفتار کیا گیا ہے اس میں سابق وزیر داخلہ کی بیوی اور بیٹے سے بھی پوچھ گچھ ہونی ہے۔ انہیں دو بار پوچھ گچھ کے لیے طلب بھی کیا گیا لیکن وہ تاحال ای ڈی کے سامنے پیش نہیں ہوئے ہیں۔

معاملہ کی بات کریں تو مارچ میں پرمبیر سنگھ کو ممبئی پولیس کے کمشنر کے عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا۔ انہیں ہوم گارڈ کا ڈی جی بنا دیا گیا۔ اس کے بعد پرمبیر سنگھ کا ایک خط منظر عام پر آیا، جو انہوں نے وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے کو لکھا تھا۔ اس خط میں انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ انیل دیشمکھ نے بطور وزیر داخلہ سچن وازے سے ہر ماہ 100 کروڑ روپے کا مطالبہ کیا تھا۔ اس کے ساتھ دیشمکھ پر پولیس افسران کے ٹرانسفر اور پوسٹنگ کے عوض رقم وصول کرنے کا بھی الزام ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔