’انسانوں کے وارڈ میں چوہوں کی موج! موٹے-پتلے، گول-مٹول، طرح طرح کے چوہے‘، گونڈا میڈیکل کالج کی حالت پر کانگریس کا طنز

کانگریس نے ’ایکس‘ ہینڈل پر ایک ویڈیو شیئر کی ہے جس میں کئی چوہے اِدھر اُدھر پھدکتے ہوئے، مریض کے بیڈ اور آکسیجن پائپ لائن پر جھولتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔

<div class="paragraphs"><p>ویڈیو گریب</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

بی جے پی حکمراں مدھیہ پردیش اور راجستھان وغیرہ میں اسپتالوں کی خراب حالت سرخیاں میں ہیں۔ اب اتر پردیش میں موجود گونڈا میڈیکل کالج کی ایک ویڈیو سامنے آئی ہے، جس نے طبی شعبہ میں یوگی حکومت کی کارکردگی پر سوال کھڑے کر دیے ہیں۔ کانگریس نے اس ویڈیو کو شیئر کرتے ہوئے طنزیہ انداز میں کہا ہے کہ ’’یہاں انسانوں کے وارڈ میں چوہوں کی موج جاری ہے۔‘‘

کانگریس نے یہ ویڈیو اپنے آفیشیل ’ایکس‘ ہینڈل پر شیئر کی ہے۔ ویڈیو میں کئی چوہے اِدھر اُدھر پھدکتے ہوئے، مریض کے بیڈ اور آکسیجن پائپ لائن پر جھولتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔ ویڈیو کے ساتھ کانگریس نے لکھا ہے ’’یوپی کے گونڈا میڈیکل کالج کا نظارہ دیکھیے۔ یہاں انسانوں کے وارڈ میں چوہوں کی موج جاری ہے۔ موٹے-پتلے، گول-مٹول... طرح طرح کے چوہے یہاں وہاں پھُدک رہے ہیں۔‘‘ اس سوشل میڈیا پوسٹ میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ لگتا ہے جیسے میڈیکل کالج کا یہ وارڈ انسانوں کا نہیں، چوہوں کا ہے۔


قابل ذکر ہے کہ یہ ویڈیو گونڈا میڈیکل کالج سے منسلک بابو ایشور شرنا اسپتال کا ہے، جہاں مریضوں میں انفیکشن کے ساتھ ساتھ آگ لگنے کا امکان بھی بہت زیادہ ہے۔ اس اسپتال اور انسانوں کے وارڈ میں چوہوں کی مٹر گشتی سے متعلق خبر کچھ میڈیا اداروں نے شائع بھی کی ہے۔ موصولہ اطلاع کے مطابق 2024 میں قائم ’گونڈا میڈیکل کالج‘ اٹل بہاری واجپئی میڈیکل یونیورسٹی، لکھنؤ سے ملحق ہے۔ یہاں پر نیشنل میڈیکل کمیشن سے منظور شدہ ایس بی بی ایس کا کورس کرایا جاتا ہے۔ یہیں کے آرتھوپیڈکس وارڈ میں چوہوں کا قہر دیکھنے کو مل رہا ہے۔ آرتھو وارڈ میں داخل مریضوں نے سوشل میڈیا پر کچھ ویڈیوز ڈالے ہیں، جن میں تین چار چوہے آکسیجن پائپ لائن کے پاس اور اوپر نیچے کرتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔ وارڈ میں چوہے بلاخوف و خطر ٹہلتے رہتے ہیں، جس سے مریضوں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ وارڈ میں سیلن اور کھلے بجلی کے سوئچ بورڈ سے انفیکشن اور شارٹ سرکٹ کا خطرہ بھی بنا ہوا ہے۔

میڈیا رپورٹس میں بتایا جاتا ہے کہ وارڈ میں ہمیشہ یہ ڈر بنا رہتا ہے کہ چوہے کسی مریض کو کاٹ نہ لیں۔ مریضوں کے تیمارداروں نے نرسنگ اسٹاف سے شکایت کی، لیکن کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔ شکایت کرنے والوں کا کہنا ہے کہ یہ نیا مسئلہ نہیں ہے، بلکہ کئی دنوں سے وارڈ میں چوہوں کی دہشت ہے۔ نرسنگ اسٹاف اور ڈاکٹروں سے کئی بار شکایت کی گئی، لیکن ہر بار صرف یقین دہانی ملی۔ ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد پرنسپل نے دواؤں کے چھڑکاؤ کے ساتھ ساتھ جانچ کا حکم بھی دیا ہے۔ ضلع مجسٹریٹ کی ہدایت پر پرنسپل نے جانچ کا حکم دیا ہے اور سبھی وارڈ میں دواؤں کا چھڑکاؤ کروایا گیا ہے۔


قابل ذکر ہے کہ صرف چوہوں کے کاتنے سے ہی نہیں، بلکہ ان کے پیشاب اور تھوک سے بھی انفیکشن پھیلنے کا خطرہ رہتا ہے۔ ڈاکٹر راکیش تیواری کا کہنا ہے کہ ’ریٹ بائٹ فیور‘ (آر بی ایف) ایک نایاب بیکٹیریل مرض ہے جو عام طور پر انفیکشن والے چوہوں کے کاٹنے سے پھیلتا ہے۔ آر بی ایف تب بھی پھیل سکتا ہے جب کوئی متاثرہ چوہا کھرونچ دے یا چوہے کی لار (تھوک)، پاخانہ یا پیشاب کے رابطے میں آ جائیں۔ آر بی ایف ایک سنگین اور مہلک انفیکشن بھی ہو سکتا ہے۔