اتراکھنڈ میں جلد ہی یکساں سول کوڈ قانون بنایا جائے گا: دھامی

پشکر دھامی نے کہا کہ ان کی حکومت نے یکساں سول کوڈ کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے، جس کے تیار کردہ مسودے پر بہت جلد یہ قانون بنایا جائے گا۔

وزیر اعلیٰ اتراکھنڈ پشکر سنگھ دھامی / یو این آئی
وزیر اعلیٰ اتراکھنڈ پشکر سنگھ دھامی / یو این آئی
user

یو این آئی

نئی دہلی: اتراکھنڈ کے وزیر اعلی پشکر سنگھ دھامی نے اتوار کو کہا کہ ریاست میں یکساں سول کوڈ قانون بنانے کے ساتھ ہی آبادی کے تناسب میں تبدیلی کو کنٹرول کرنے اور تبدیلی مذہب پر پابندی لگانے کے سخت اقدامات کی سمت میں کام شروع ہو گیا ہے۔ دھامی نے یہاں قوم پرست نظریات کی حوصلہ افزائی کرنے والی میگزین پانچ جنیہ اور آرگنائزر کے 75 ویں سال کے موقع پر منعقدہ ایک میڈیا منتھن پروگرام میں مذکورہ باتیں کہیں۔ انہوں نے کہا کہ اتراکھنڈ کو ماحولیاتی تحفظ اور اقتصادی ترقی دونوں کو ایک ساتھ لے کر کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ زراعت، باغبانی، سیاحت، آیوروید وغیرہ شعبوں میں بہت سے کام جاری ہیں۔

انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان کی پہل سے چار دھام یاترا کے لیے اچھی سڑکوں اور دیگر سہولیات کا جال بچھا دیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کماؤن میں 17 تیرتھ مقامات کو سرکٹ 'مانس کھنڈ' کے طور پر تیار کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ بابا نیب کروڑی کے کینچی دھام میں ایک بہت بڑی پارکنگ بنائی جا رہی ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ دہرادون کے قریب پانچویں دھام کے طور پر سینیہ دھام بنایا جا رہا ہے، جس میں 1700 سے زیادہ شہید فوجیوں کے گھر کے صحن کی مٹی کا استعمال کیا جائے گا۔


وزیر اعلیٰ نے کہا کہ کیدارناتھ اور ہیم کنڈ صاحب میں روپ وے کی تعمیر کا کام بھی شروع ہو گیا ہے۔ چار دھام اور دیگر مقامات پر لوگوں کا مقام کی گنجائش سے کافی زیادہ تعداد میں پہنچ جانا تشویش کی بات ہے۔ انہوں نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ رجسٹریشن کے بغیر سفر نہ کریں۔ لوگ صحت کا معائنہ کروانے کے بعد اور فٹ ہونے کی صورت میں ہی سفر شروع کریں۔

دھامی نے اتراکھنڈ میں یکساں سول کوڈ، بگڑتے ہوئے آبادیاتی تناسب اور پڑوسی ریاستوں سے مجرموں کا آکر پناہ لینے کے بارے میں مشکل سوالات کے جواب بھی دیئے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت نے یکساں سول کوڈ کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے، جس کے تیار کردہ مسودے پر بہت جلد یہ قانون بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ یکساں سول کوڈ نہ صرف اتراکھنڈ میں بلکہ پورے ملک میں اور تمام ریاستوں میں ضروری ہے۔


وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اتراکھنڈ میں آبادی کے تناسب میں تبدیلی بالخصوص روہنگیا کی تعداد میں اضافے کی جانچ کے لیے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ ہوٹلوں وغیرہ جیسی جگہوں پر کام کرنے والوں کی پولیس تصدیق پر زور دیا جا رہا ہے۔ اسی طرح ریاست میں تیزی سے بڑھ رہے غیر قانونی مزاروں کے معاملے کو بھی سنجیدگی سے لیا گیا ہے۔ ریاست میں تبدیلی مذہب مخالف قانون کو سخت بنانے کے اقدامات پر بھی کام کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’میں تیز نہیں بولتا، میٹھا بولتاہوں لیکن کام بہت سختی سے کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ اتراکھنڈ میں فرقہ وارانہ توازن بگاڑنے والی کسی بھی چیز کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔