یوپی: مفت راشن دے کر ووٹ بٹورنے کے بعد اب معاشی بحران کے بہانے راشن کارڈوں کی چھنٹائی

حکومتی اعلان کے بعد سپلائی آفس کے باہر کارڈ سرینڈر کرنے والے لوگوں کی لمبی لائن نظر آ رہی ہے، ریاست کے 75 اضلاع کے 70 ہزار سے زیادہ کارڈ ہولڈروں نے مفت راشن کے لیے خود کو نااہل قرار دیا ہے۔

مفت راشن اسکیم، فائل تصویر / Getty Images
مفت راشن اسکیم، فائل تصویر / Getty Images
user

کے. سنتوش

علاؤالدین پور گاؤں کے کارڈ ہولڈروں سے رام پرتاپ کوٹیدار نے کہا سنو! جن لوگوں کے پاس فور وہیلر گاڑی، ٹریکٹر، 5 ایکڑ اراضی، اسلحہ لائسنس، 5 کے وی جنریٹر، اے سی، 100 مربع میٹر کا گھر یا فلیٹ ہے، وہ اپنا راشن کارڈ تحصیل اترولہ کے سپلائی آفس میں جمع کرا دیں۔ تحقیقات کے بعد اگر آپ نا اہل قرار دیئے گئے تو گندم 24 روپے فی کلو، چاول 32 روپے فی کلو اور چنا، نمک، تیل بازار کی قیمت پر وصول کیا جائے گا اور اس کی تمام ذمہ داری کارڈ ہولڈر کی ہوگی۔‘‘

یوں تو اس قسم کی منادی بلرام پور ضلع کے علاؤالدین پور گاؤں میں ہوئی، لیکن اس کی بازگشت یوپی کے ہر گاؤں تک سنائی دے رہی ہے۔ کارروائی کے خوف سے گوتم بدھ نگر سے دیوریا اور بلیا سے لکھیم پور تک سپلائی آفس کے باہر کارڈ سرینڈر کرنے کے لیے لوگوں کی لمبی لائن نظر آ رہی ہے۔ ریاست کے 75 اضلاع کے 70 ہزار سے زیادہ کارڈ ہولڈروں نے خود کو مفت راشن کے لیے نااہل قرار دے دیا ہے۔


نااہلوں کے حوالے سے ایک بار پھر سختی کی کچھ وجوہات تو واضح ہیں۔ پہلی وجہ یہ ہے کہ لوک سبھا انتخابات دو سال بعد ہیں اس لیے ریاستی حکومت صفائی مہم کو وقت پر مکمل کرنا چاہتی ہے۔ دوسری وجہ معاشی صورتحال ہے۔ ایس پی لیڈر ضیاء الاسلام کا یہ بھی کہنا ہے کہ 'مندر مسجد کے شور کے درمیان پورے ملک کی معاشی حالت سری لنکا جیسی ہوتی جا رہی ہے۔ بے موسمی بارشوں سے گندم کی فصل 40 فیصد متاثر ہوئی ہے۔ اس کے برعکس بغیر کسی ہچکچاہٹ کے گندم کی برآمد کی اجازت دی گئی۔‘

یہ صرف الزامات نہیں ہیں۔ وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کے آبائی ضلع گورکھپور میں گیہوں کی خریداری کا ہدف ایک لاکھ 19 ہزار میٹرک ٹن تھا لیکن 16 مئی تک 2784 کسانوں سے صرف 12 ہزار 410 میٹرک ٹن گیہوں کی خریداری کی گئی۔ ساتھ ہی ریلوے ریک سے 75 ہزار میٹرک ٹن گندم برآمد کے لیے مختلف بندرگاہوں پر بھیجا گیا۔ اس کا ٹیکس بھی منڈی سمیتی میں جمع کرایا گیا، ریاست بھر میں یہی صورتحال ہے۔ ریاست کے 75 اضلاع میں 5665 گندم خریداری مراکز کھولے گئے ہیں۔ ان پر 60 لاکھ میٹرک ٹن گندم کی خریداری کا ہدف تھا۔ رپورٹ درج کرنے تک بمشکل 2.50 لاکھ میٹرک ٹن گندم کی خریدی ہوئی ہے۔ گزشتہ سال بھی جب کورونا نے مشکلات کا سامنا کیا تھا تب بھی 58 لاکھ میٹرک ٹن گندم کی خریداری ہوئی تھی۔


تیسری وجہ، کم پیداوار کے بعد بھی حکومت یہ سمجھ رہی ہے کہ بڑی مقدار میں برآمد ہونے کی وجہ سے گندم کی کمی ہے۔ اس لیے مرکزی حکومت کی پردھان منتری غریب کلیان یوجنا کے تحت گیہوں کی تقسیم جون سے نہیں کی جائے گی اور اس کے بدلے چاول دیا جائے گا۔ ویسے ریاستی حکومت نے ابھی تک اپنے کوٹہ سے گندم کی تقسیم میں کٹوتی کا اعلان نہیں کیا ہے لیکن ایڈیشنل کمشنر فوڈ سیفٹی انیل دوبے کا کہنا ہے کہ 'اگلے مہینے سے گیہوں کے بجائے چاول کو تقسیم کرنے کی پوری تیاری ہے۔'

ویسے نااہلوں کے نام پر اسکیم واپس لینے اور کارروائی کی وارننگ پر بھی سیاست شروع ہو گئی ہے۔ سماج وادی پارٹی کے قومی صدر اکھلیش یادو نے 11 مئی کو ٹوئٹ کیا کہ 'مفت راشن فراہم کرتے وقت کوئی اعلان نہیں کیا گیا تھا، لیکن اب کچھ حالات کی شرط لگا کر راشن کارڈ کو دفتر میں سرینڈر کرنے کی منادی کرائی جا رہی ہے۔ چناؤ نکل گیا تو پہچانتے نہیں!‘‘ مہاراج گنج میں کانگریس کے ضلع صدر شرد کمار سنگھ بھی کم و بیش یہی کہتے ہیں، ’’جب ووٹ لینے تھے تو مہاجر مزدوروں سے لے کر دوسرے ٹارگٹ دے کر راشن کارڈ بنا دیئے گئے۔ الیکشن کے بعد انہیں چور قرار دے دیا گیا۔ سوال یہ ہے کہ نااہلوں کے کارڈ بنے کیسے جبکہ کارڈ بنانے والے بھی حکومت کے نمائندے ہیں اور منسوخ کرنے والے بھی!‘‘


ریاست میں 3.61 کروڑ راشن کارڈ ہیں۔ لاکھوں نااہل لوگوں کے مفت راشن کا فائدہ اٹھانے پر حکومت کی سختی کوئی نئی بات نہیں ہے۔ ایک سال قبل بھی نااہلوں کے بارے میں سختی شروع ہوئی تھی۔ حکومت نے دو سال پہلے دعویٰ کیا تھا کہ ریاست میں 64 ہزار سے زیادہ لکھ پتی کسان مفت راشن لے رہے ہیں، لیکن پھر اس منصوبہ کو سرد خانہ میں ڈال دیا گیا کیونکہ اسمبلی انتخابات آنے والے تھے۔ الیکشن کے شور میں کوئی ایکشن نہیں لیا گیا۔ ویسے فوڈ کمشنر سوربھ بابو تسلیم کرتے ہیں کہ 'اپریل 2021 سے اپریل 2022 تک نااہل لوگوں کو جاری کیے گئے 803355 راشن کارڈ منسوخ کئے گئے ہیں۔'

لیکن اس کارروائی کے طریقہ کار پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ سہارنپور میں رفیق احمد نے دو سال قبل ملازمت کے لیے ایک میجک گاڑی خریدی تھی۔ اب ان کے پاس فور وہیلر ہے، اس لیے وہ راشن کارڈ کے لیے نااہل ہو گئے۔ رفیق کا کہنا ہے کہ 'والدین کے ساتھ پانچ لوگوں کی ذمہ داری اٹھانے کے لیے بینک سے قرض لے کر میجک کار خریدی۔ اسکولی بچوں کو اسکول چھوڑنے کے دھندے سے خاندان کے اخراجات کسی طرح پورے ہو رہے ہیں۔ اب صفائی نگراں نے کارڈ سرینڈر کرنے کی وارننگ دی ہے۔‘‘


ایسا ہی معاملہ میرٹھ کے مہیش چودھری کا ہے۔ ان کے پاس آدھا ایکڑ زمین بھی نہیں ہے پھر بھی قرض لے کر ٹریکٹر خرید لیا۔ ان کا کہنا ہے کہ 'میں ٹریکٹر سے کھیتی باڑی کے ساتھ ٹرانسپورٹ کا کام بھی کرتا ہوں۔ راشن سے راحت تھی۔ مہنگائی کے اس دور میں گیہوں اور چاول خریدنا بھاری پڑے گا۔‘‘ اعظم گڑھ کے راجندر یادو نے بھی کارڈ سرینڈر کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ زمین 5 ایکڑ سے تھوڑی زیادہ ہے لیکن بیماری کی وجہ سے وہ کھیتی باڑی نہیں کر پاتے ہیں۔ بٹائی پر دے کر کچھ حاصل ہو جاتا ہے۔ اب کارڈ سرینڈر کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے۔ سینئر صحافی اتکرش سنہا کا کہنا ہے کہ ’راشن کارڈ سرینڈر کرنے کے اصولوں میں جھول ہے۔ کنبہ کے حالات کو جانے بغیر ان کے راشن کارڈ چھین لینا جائز نہیں ہے۔‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔