’یہ میری نہیں، جمہوریت اور آئین کی ناکامی ہے‘، سپریم کورٹ سے عرضی خارج ہونے پر میناکشی نٹراجن کا ردعمل
سپریم کورٹ کی جانب سے عرضی خارج کیے جانے کے بعد میناکشی نٹراجن نے کہا کہ یہ ان کی ذاتی شکست نہیں بلکہ جمہوریت اور آئین کے لیے دھچکا ہے۔ انہوں نے الیکشن کمیشن کے کردار پر بھی سوال اٹھائے

نئی دہلی: سپریم کورٹ کی جانب سے راجیہ سبھا نامزدگی مسترد کیے جانے کے خلاف دائر عرضی خارج ہونے کے بعد کانگریس لیڈر میناکشی نٹراجن نے سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ان کی ذاتی ناکامی نہیں بلکہ جمہوریت اور ہندوستان کے آئین کے لیے ایک دھچکا ہے۔ انہوں نے ایک بار پھر الیکشن کمیشن کے کردار پر سوال اٹھاتے ہوئے الزام لگایا کہ انتخابی ادارہ غیر جانبدارانہ انداز میں کام نہیں کر رہا۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے میناکشی نٹراجن نے کہا کہ وہ شروع سے ہی الیکشن کمیشن کے رویے پر اعتراض کرتی رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جب کانگریس کے نمائندے اس معاملے کو لے کر الیکشن کمیشن کے پاس پہنچے تو انہیں 48 گھنٹے تک کوئی جواب نہیں دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ سپریم کورٹ نے ان کی عرضی پر سماعت کی اور فیصلہ سنایا لیکن اس پورے معاملے نے کئی اہم سوالات کو جنم دیا ہے۔
نٹراجن نے کہا کہ یہ معاملہ کسی ریاستی حکومت یا مدھیہ پردیش انتظامیہ کے خلاف نہیں تھا، بلکہ ان کی شکایت انتخابی عمل کو سنبھالنے والے اداروں اور متعلقہ حکام کے کردار سے متعلق تھی۔ ان کے مطابق ریٹرننگ افسر کے فیصلے اور اس کے بعد ہونے والی پیش رفت نے عوام کے سامنے کئی حقائق واضح کر دیے ہیں۔
تاہم کانگریس لیڈر نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر براہ راست تنقید سے گریز کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ عدالت عظمیٰ کے بارے میں کوئی تبصرہ نہیں کرنا چاہتیں لیکن الیکشن کمیشن کے طرز عمل پر ان کے تحفظات برقرار ہیں۔
قابل ذکر ہے کہ سپریم کورٹ نے جمعہ کو میناکشی نٹراجن کی وہ عرضی خارج کر دی تھی جس میں انہوں نے راجیہ سبھا انتخاب کے لیے اپنا پرچۂ نامزدگی مسترد کیے جانے کو چیلنج کیا تھا۔ سماعت کے دوران عدالت نے کہا تھا کہ انتخابی عمل شروع ہونے کے بعد عدالتی مداخلت کی حدود متعین ہیں اور ایسے معاملات میں مداخلت ایک نئی روایت کو جنم دے سکتی ہے۔
عدالت نے عرضی خارج کرتے ہوئے یہ بھی واضح کیا کہ اس کے مشاہدات مستقبل میں دائر کی جانے والی کسی انتخابی عرضی پر اثر انداز نہیں ہوں گے۔ کانگریس کا موقف ہے کہ نٹراجن کے خلاف جس مقدمے کا حوالہ دے کر نامزدگی مسترد کی گئی، اس میں ابھی فرد جرم عائد نہیں ہوئی تھی، اس لیے نامزدگی رد کرنے کی بنیاد قانونی طور پر کمزور تھی۔ اسی مؤقف کے ساتھ پارٹی نے پہلے الیکشن کمیشن سے رجوع کیا اور بعد میں سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا تھا۔
دریں اثنا کانگریس رہنماؤں نے نئی دہلی میں احتجاجی ستیہ گرہ بھی کیا اور الزام لگایا کہ انتخابی عمل کی شفافیت متاثر ہوئی ہے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ وہ اس معاملے میں دستیاب قانونی راستوں پر غور جاری رکھے گی۔
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
