’یہ معاملہ سنا تو نئی روایت شروع ہو جائے گی‘، عدالت نے میناکشی نٹراجن کو دیا ’سپریم‘ جھٹکا
سماعت کے دوران عدالت عظمیٰ نے واضح کیا کہ ایک بار انتخابی عمل شروع ہو جانے کے بعد عدالتی مداخلت کی حدیں طے ہیں اور اس مرحلہ میں عدالت مداخلت نہیں کر سکتی۔
سپریم کورٹ نے کانگریس لیڈر میناکشی نٹراجن کی اس عرضی کو آج خارج کر دیا، جس میں انھوں نے راجیہ سبھا امیدواری کے لیے پرچۂ نامزدگی ریٹرننگ افسر کے ذریعہ نامنظور کیے جانے کو چیلنج کیا تھا۔ جمعہ کو اس معاملے میں سماعت کے دوران عدالت عظمیٰ نے واضح کیا کہ ایک بار انتخابی عمل شروع ہو جانے کے بعد عدالتی مداخلت کی حدیں طے ہو جاتی ہیں اور اس مرحلہ میں عدالت مداخلت نہیں کر سکتی۔ ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ اگر اس معاملے میں سماعت ہوئی تو نئی روایت شروع ہو جائے گی۔
سپریم کورٹ کے اس فیصلہ کو میناکشی نٹراجن کے لیے ایک بڑا جھٹکا قرار دیا جا رہا ہے۔ ان کی عرضی مسترد کرتے ہوئے عدالت نے انتخابی عمل جاری رکھنے کی راہ ہموار کر دی ہے۔ سپریم کورٹ نے میناکشی نٹراجن معاملے میں حکم سناتے ہوئے کہا کہ ہم نے تمام دلائل پر غور کیا ہے۔ درخواست گزار کی جانب سے بتایا گیا کہ ریٹرننگ افسر نے اپنے حکم میں کہا کہ درخواست گزار نے نامزدگی فارم نامکمل بھرا ہے اور اپنے خلاف زیر سماعت شکایتی مقدمے کی معلومات فراہم نہیں کی ہیں۔ حکم میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ درخواست گزار نے اس مقدمے میں تحریری دلائل جمع کرائے تھے، لہٰذا انہیں اس معاملے کی مکمل معلومات تھیں۔
درخواست گزار نے ریٹرننگ افسر کے حکم کے خلاف الیکشن کمیشن آف انڈیا سے رجوع کیا تھا، لیکن تحریری درخواست دینے اور 10 جون کو مکمل الیکشن کمیشن کے سامنے ذاتی طور پر دلائل پیش کرنے کے باوجود کمیشن نے کوئی حکم جاری نہیں کیا۔ دوسری جانب درخواست گزار کی طرف سے ابتدائی مرحلے میں ہی کہا گیا کہ آئین ہند کے آرٹیکل 329(بی) کے تحت عائد پابندی (اسٹے) اس معاملے پر نافذ نہیں ہوتی، کیونکہ درخواست گزار انتخابی عمل کو منصفانہ اور شفاف انداز میں مکمل کرانا چاہتی ہیں۔ درخواست گزار کا کہنا تھا کہ عرضی دائر کرنے کا مقصد انتخابی عمل میں رکاوٹ ڈالنا نہیں ہے۔ اس معاملے میں عوامی نمائندگی ایکٹ کی دفعہ 33 اے کا بھی حوالہ دیا گیا، جس کے مطابق صرف ایسے زیر التوا مقدمات کی معلومات دینا ضروری ہے جن میں 2 سال سے زیادہ سزا کی گنجائش ہو اور جن میں فرد جرم عائد ہو چکی ہو۔ یہ دلیل بھی دی گئی کہ چونکہ اس مقدمے میں ابھی فرد جرم عائد نہیں کی گئی اور نہ ہی عدالت نے اس کا باضابطہ نوٹس لیا ہے، اس لیے نامزدگی مسترد کرنا واضح طور پر غیر قانونی اور منمانی کارروائی ہے۔ عدالت کے سامنے ایم ایس گل (1975) اور اشوک کمار (2004) کے مقدمات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ آئین انتخابی تنازعات پر غور کرنے سے مکمل طور پر نہیں روکتا، خاص طور پر جب عرضی میں طلب کی گئی راحت کا مقصد انتخابی عمل کو روکنا نہیں بلکہ اسے منظم انداز میں جاری رکھنا ہو۔
دوسری جانب الیکشن کمیشن کی طرف سے پیش ہونے والے سینئر وکلا داما شیشادری نائیڈو، مکل روہتگی اور مدھیہ پردیش حکومت کی جانب سے سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے نہ صرف درخواست کی مخالفت کی بلکہ اس کے قابل سماعت ہونے پر بھی اعتراض کیا۔ ان تمام فریقوں نے متفقہ طور پر مؤقف اختیار کیا کہ انتخاب لڑنے کا حق ایک قانونی حق ہے، بنیادی حق نہیں، لہٰذا آئین کے آرٹیکل 32 کے تحت عرضی دائر نہیں کی جا سکتی کیونکہ کسی بنیادی حق کی خلاف ورزی نہیں ہوئی ہے۔ انہوں نے مزید دلیل دی کہ قانون میں یہ بات اچھی طرح طے شدہ ہے کہ اگر کسی امیدوار کی نامزدگی کسی بھی بنیاد پر مسترد کر دی جائے تو اس کا واحد قانونی راستہ انتخابی عرضی دائر کرنا ہوتا ہے۔ مزید یہ بھی کہا گیا کہ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ آرٹیکل 226 یا آرٹیکل 32 کے تحت اس معاملے پر غور نہیں کر سکتے۔
عدالت نے پوری باتیں سننے کے بعد کہا کہ فارم 26 کے تحت معلومات فراہم کرنا قانونی تقاضا ہے، جو ’انتخابات کے انعقاد کے قواعد 1961‘‘ کے قاعدہ 4 اے میں درج ہے۔ اس قاعدے کے مطابق امیدوار یا اس کا تجویز کنندہ امیدوار کے حلف نامے (فارم 26) کو بھی جمع کرانے کا پابند ہے۔ فارم 26 میں مختلف نوعیت کی معلومات شامل ہوتی ہیں جن کا امیدوار کے لیے افشا کرنا ضروری ہے۔
واضح رہے کہ مدھیہ پردیش میں راجیہ سبھا انتخابات سے قبل کانگریس کو ایک بڑا سیاسی جھٹکا لگا تھا۔ پارٹی امیدوار میناکشی نٹراجن کی نامزدگی جانچ (اسکروٹنی) کے دوران مسترد کر دی گئی تھی۔ اس کے ساتھ ہی ریاست کی تیسری راجیہ سبھا نشست پر مقابلہ ختم ہو گیا اور بی جے پی امیدوار مہیش کیوٹ کے بلا مقابلہ منتخب ہونے کی راہ صاف ہو گئی۔ بی جے پی نے کانگریس امیدوار پر الزام لگایا تھا کہ انہوں نے اپنے نامزدگی حلف نامے میں ایک مجرمانہ مقدمے کی معلومات چھپائی ہیں۔ جانچ کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ انہوں نے اپنے حلف نامے میں ایک عدالتی شکایت کا ذکر نہیں کیا تھا۔ اسی بنیاد پر ان کا نامزدگی فارم نامکمل قرار دے کر مسترد کر دیا گیا۔ اسمبلی کے ایک سینئر افسر کے مطابق بی جے پی امیدوار مہیش کیوٹ نے اس سلسلے میں انتخابی افسر کے سامنے شکایت درج کرائی تھی۔ شکایت میں الزام لگایا گیا تھا کہ میناکشی نٹراجن نے تلنگانہ میں اپنے خلاف درج ایک عدالتی مقدمے کی معلومات جان بوجھ کر چھپائی تھیں۔
