میناکشی نٹراجن کی نامزدگی منسوخی کے بعد راہل گاندھی کا حملہ، کہا- ’بی جے پی کے لیے الیکشن جیتنے سے آسان اسے فکس کرنا ہے‘

میناکشی نٹراجن کی راجیہ سبھا نامزدگی مسترد ہونے پر راہل گاندھی نے بی جے پی اور الیکشن کمیشن کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ قواعد کا اطلاق مختلف امیدواروں پر مختلف انداز میں کیا جا رہا ہے

<div class="paragraphs"><p>راہل گاندھی، تصویر ’ایکس‘ @INCIndia</p></div>
i

نئی دہلی: کانگریس کے سینئر لیڈر اور لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے مدھیہ پردیش سے راجیہ سبھا کے لیے کانگریس امیدوار میناکشی نٹراجن کی نامزدگی مسترد کیے جانے کے معاملے پر بی جے پی اور الیکشن کمیشن کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں پہلے ’ووٹ چوری‘ اور ’حکومت چوری‘ ہوئی اور اب ’سیٹ چوری‘ کا دور شروع ہو گیا ہے۔

سوشل میڈیا پر جاری ایک بیان میں راہل گاندھی نے کہا کہ بی جے پی اور الیکشن کمیشن کی ’جگل بندی‘ نے مقابلہ شروع ہونے سے پہلے ہی ختم کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ میناکشی نٹراجن نے اپنی نامزدگی کے ساتھ تمام ضروری دستاویزات جمع کرائی تھیں اور ان کے خلاف کوئی زیر التوا مقدمہ بھی نہیں تھا لیکن اس کے باوجود بی جے پی کی جانب سے اٹھائے گئے ایک اعتراض کی بنیاد پر ان کی نامزدگی منسوخ کر دی گئی۔

راہل گاندھی نے کہا کہ دوسری طرف جھارکھنڈ میں بی جے پی حمایت یافتہ آزاد امیدوار پریمل ناتھوانی کے کاغذات نامزدگی میں متعدد خامیاں موجود تھیں۔ ان کے مطابق امیدوار نے فارم میں اپنا نام بھی درست طور پر درج نہیں کیا تھا اور کئی لازمی تفصیلات بھی فراہم نہیں کی تھیں لیکن الیکشن کمیشن نے انہیں تمام خامیاں دور کرنے کے لیے اضافی وقت دے دیا۔

کانگریس رہنما نے سوال اٹھایا کہ ایک ہی الیکشن کمیشن نے دو امیدواروں کے ساتھ مختلف رویہ کیوں اختیار کیا؟ انہوں نے کہا کہ ایک امیدوار کو بغیر سماعت کا موقع دیے نااہل قرار دے دیا گیا، جبکہ دوسرے امیدوار کو قواعد پر عمل نہ کرنے کے باوجود رعایت دی گئی۔ راہل گاندھی کے مطابق یہ صورتحال انتخابی عمل کی غیر جانبداری پر سنگین سوالات کھڑے کرتی ہے۔


انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ کانگریس نے اس معاملے پر الیکشن کمیشن سے ملاقات کی درخواست کی تھی لیکن ابتدا میں کمیشن نے ملاقات سے گریز کیا۔ راہل گاندھی کا کہنا تھا کہ جب بالآخر ملاقات ہوئی تو کمیشن کے عہدیداروں نے اس معاملے پر کوئی وضاحت پیش نہیں کی۔

اس سے قبل کانگریس جنرل سکریٹری کے سی وینوگوپال بھی میناکشی نٹراجن کی نامزدگی مسترد کیے جانے پر شدید ردعمل ظاہر کر چکے ہیں۔ انہوں نے کہا تھا کہ میناکشی نٹراجن کے خلاف نہ کوئی فوجداری مقدمہ درج تھا، نہ کوئی ایف آئی آر اور نہ ہی کوئی چارج شیٹ داخل کی گئی تھی۔ ان کے مطابق صرف ایک عدالتی نوٹس کا ذکر نہ کرنے کو بنیاد بنا کر نامزدگی مسترد کرنا انتہائی افسوسناک اور جمہوری اصولوں کے منافی ہے۔

کے سی وینوگوپال نے الزام لگایا تھا کہ جھارکھنڈ میں بی جے پی حمایت یافتہ امیدوار کی نامزدگی میں موجود خامیوں کو نظر انداز کر دیا گیا، جس سے انتخابی عمل میں دوہرے معیار کا تاثر پیدا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس اس معاملے کو قانونی اور سیاسی دونوں سطحوں پر بھرپور طریقے سے اٹھائے گی۔

کانگریس نے اس تنازعہ کو جمہوری اداروں کی ساکھ سے جوڑتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں انتخابی عمل پر عوام کے اعتماد کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ تمام امیدواروں کے ساتھ یکساں سلوک کیا جائے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ وہ اس معاملے کو آئندہ دنوں میں بھی عوامی اور سیاسی سطح پر اٹھاتی رہے گی۔

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔