یوپی اردو اکیڈمی: طوالت کے بہانے اخراجات کی تفصیلات دینے میں قیل وقال

آر ٹی آئی کے تحت اکیڈمی سے سال 2012۔13 تا 2019 کے درمیان اخراجات کی تفصیلات مانگی گئی تھی۔ جس کے جواب میں اکیڈمی نے دفعہ 4(2)(خ)(5) کا حوالہ دیتے ہوئے حق اطلاعات کا جواب فراہم کرنے سے انکار کردیا

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

یو این آئی

لکھنؤ: گذشتہ دنوں ایوارڈ تقسیم کے حوالے سے سرخیوں میں رہنے والے اترپردیش اردو اکیڈمی نے طوالت کا حوالہ دیتے ہوئے آر ٹی آئی سے اکیڈمی کے اخراجات پر طلب کی گئی تفصیلات کو دینے سے انکار کردیا۔ حق اطلاعات ایکٹ 2005 کے تحت اکیڈمی سےسال 2012۔13 تا 2019 کے درمیان اخراجات کی تفصیلات طلب کی گئی تھی۔ جس کے جواب میں اکیڈمی نے آر ٹی آئی ایکٹ کے دفعہ 4(2)(خ)(5) کا حوالہ دیتے ہوئے طلب کی گئی اطلاعات کا جواب فراہم کرنے سے انکار کردیا۔

آر ٹی آئی اکٹیوسٹ و سماجی کارکن سلیم بیگ نے اردو اکیڈمی سے سال 2012۔13 سے 2019 کے درمیان اترپردیش حکومت کی جانب سے اکیڈمی کو دیئے گئے بجٹ اور اکیڈمی کی جانب سے خرچ کی گئی رقم اور باقی بچی رقم پر فی سال کے اعتبار سے تفیصلات طلب کی تھیں۔ جس کے جواب میں اکیڈمی نے آر ٹی آئی ایکٹ کے دفعہ4(2)(خ)(5) کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ کیونکہ آپ کے ذریعہ طلب کی گئی اطلاعات کافی طویل ہیں۔ جسے یکجا کرنے میں اکیڈمی کے کافی وسائل لگ جائیں گے جس سے اکیڈمی کا پورا کام متأثر ہوگا۔

حالانکہ آر ٹی آئی ایکٹ کے دفعہ 4(1)(بی) میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ آر ٹی ایکٹ کے نافذ ہونے کے 120 دنوں کے اندر ریاستوں اور سنٹر کے سبھی محکمے اپنی محکمہ جاتی جانکاریاں ویب سائٹ پر اپلوڈ کردیں تاکہ ہر فرد ضرورت کے بقدر معلومات حاصل کرسکے۔ لیکن اکیڈمی ایکٹ کے نافذ ہونے کے 13 سالوں بعد بھی اپنی محکمہ ذاتی تفصیلات ویب سائٹ پر اپلوڈ نہیں کرپائی ہے۔

سلیم بیگ کے مطابق اکیڈمی میں بڑے پیمانے پر مالی خرد برد کے الزامات لگتے رہے ہیں اس لئے اکیڈمی اس ضمن میں اطلاعات فراہم کرنے میں ٹال مٹول سے کام کر رہی ہے۔ انہوں نے اکیڈمی کی جانب سے ان کی آر ٹی آئی کا جواب نہ دیئے جانے پر انفارمیشن کمیشن میں عرضی داخل کرنے اور ضرورت پڑنے پر عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے کا عندیہ دیا۔

بیگ نے اکیڈمی سے ممبران اور ذمہ داران کی ہوئی میٹنگ کے مینٹس آف پوائنٹ طلب کیے تھے لیکن اکیڈمی نے میٹنگ کے منٹس کی تفصیلات دینے سے بھی انکار کردیا۔ اس ضمن میں سلیم بیگ کہتے ہیں کہ ایک چھوٹے سے چھوٹے ادارے میں میں بھی ہر میٹنگ کی رپورٹ تیار کی جاتی ہے جسے آسانی سے حاصل کیا جاسکتا ہے لیکن اکیڈمی کو اس کی تفصیلات بھی طویل لگتی ہیں جس سے اکیڈمی کے انتظامی امور میں خرد برد کا شک ہوتا ہے۔

اردو اکیڈمی سے فروغ اردو، اردو کلچر کو بڑھاوا دینے، اردو زبان میں تعلیم حاصل کرر ہے پرائمری اسکولوں سے لے کر اعلی تعلیم تک کے سبھی طلبا کو دی جانے والی اسکالرشپ پر خرچ کی گی رقم کی تفصیلات کے ساتھ دیگر کئی نکات پر اطلاعات طلب کی تھیں جس کے جواب میں اکیڈمی نے طوالت کا حوالہ دیتے ہوئے کسی بھی قسم کا جواب دینے سے انکار کردیا۔

قابل ذکر ہے کہ اس سے قبل اردو اکیڈمی نے اپنے ایک متنازع فیصلے میں اکیڈمی کے چیئرمین سمیت تین ممبروں کو 2018 کا ایوارڈ دینے کا اعلان کیا تھا جس پر حکومت نے بعد میں پابندی لگا دی تھی۔ اور جانچ کا حکم دیا تھا۔