کلکتہ ہائی کورٹ کی پانچ رکنی بنچ نے تشدد کے واقعات پر حلف نامہ کیا طلب

بنچ نے ریاست کے ایڈوکیٹ جنرل کشور دتہ کو حلف نامے میں ان علاقوں کے نام بتانے کی ہدایت کی ہے جہاں سے تشدد کے واقعات رونما ہوئے ہیں۔

تصویر آئی اے این ایس
تصویر آئی اے این ایس
user

یو این آئی

کلکتہ: کلکتہ ہائی کورٹ کی پانچ رکنی بنچ نے آج انتخابی نتائج کے بعد بنگال میں ہو رہے تشدد و جھڑپ کے واقعات پر مفاد عامہ کی عرضی کی سماعت کرتے ہوئے آج ریاستی حکومت کو ہدایت دی ہے کہ تین دنوں میں ریاست میں امن و امان کی صورت حال پر حلف نامہ داخل کریں۔

بنچ نے ریاست کے ایڈوکیٹ جنرل کشور دتہ کو حلف نامے میں ان علاقوں کے نام بتانے کی ہدایت کی ہے جہاں سے تشدد کے واقعات رونما ہوئے ہیں۔ عدالت نے کہا کہ اس کی تفصیل کی پیش کی جائے کہ تشدد کے واقعات پر قابو پانے کے لئے کیا اقدامات کیے گئے ہیں۔ 10 مئی کو دوبارہ اس عرضی پر سماعت ہوگی۔


اس عرضی پر پہلے ڈویژن بنچ نے کہا تھا۔ جس میں قائم مقام چیف جسٹس راجیش منڈل اور جسٹس اریجیت بنرجی شامل تھے۔ بعد میں دوپہر میں پانچ رکنی بنچ کے حوالے یہ عرضی کر دی گئی۔ عدالت نے کہا کہ اس عرضی کی اہمیت کو دیکھتے ہوئے ایسا کیا گیا ہے۔ درخواست گزار انندیا سندر داس جو ایک وکیل بھی ہیں، نے اپنی درخواست میں دعوی کیا ہے کہ ریاستی پولیس فورسیس کی مبینہ عدم فعالیت کی وجہ سے لوگوں کی زندگیاں خطرے میں ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔