وکاس خود پوچھ رہا ہے، ’وکاس‘ کو گرفتار کروگے یا نہیں! اکھلیش یادو

اکھلیش نے ٹوئٹ میں لکھا کہ اب تو وکاس خود پوچھ رہا ہے، ’وکاس‘ کو کب گرفتار کروگے، کروگے بھی یا نہیں؟ ویسے یوپی کی نام بدلو سرکار کے پاس ایک اختیار موجود ہے، کسی اور کا نام بدل کر وکاس رکھ لیں

تصویر آئی اے این ایس
تصویر آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

لکھنؤ: سماجوادی پارٹی کے قومی صدر اکھلیش یادو نے کانپور سانحہ کے حوالہ سے حکومت پر نشانہ سادھا اور کہا کہ مبینہ غیرجانبدارانہ تفتیش بھی ان سے کرائی جا رہی ہے جو خود کٹہرے میں ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے بی جے پی حکومت پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ اب تو وکاس بھی خود پوچھ رہا ہے کہ ’وکاس‘ کو گرفتار کروگے یا نہیں۔

سماجوادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو نے ٹوئٹر پر لکھا، ’’اتر پردیش اقتدار اور جرائم کی ساز باز کے خوفناک دور میں ہے جہاں نہ تو پولیس کو مارنے والے خونخوار مجرم پر کوئی کارروائی ہوتی ہے اور نہ ہی اس افسر پر جس کے ملوث ہونے کے ثبوت چہار سو موجود ہیں۔ ایسے میں مبینہ غیرجانبدارانہ تفتیش بھی ان سے کرائی جا رہی ہے جو خود کٹہرے میں ہیں۔‘‘

ایک دیگر ٹوئٹ میں اکھلیش نے لکھا، ’’اب تو وکاس خود پوچھ رہا ہے...’وکاس‘ کو کب گرفتار کروگے.. کروگے بھی یا نہیں؟ ویسے یوپی کی نام بدلو سرکار کے پاس ایک اختیار موجود ہے، کسی اور کا نام بدل کر وکاس رکھ لیں اور پھر، باقی کیا کہنا، عوام خود سمجھدار ہیں۔‘‘

خیال رہے کہ کانپور میں بدنام زمانہ مجرم وکاس دوبے کو گرفتار کرنے پہنچی پولیس ٹیم پر حملہ میں شہید ہونے والے سی او بلہور دیویندر مشرا کے خط کے حوالہ سے جانچ کے گھیرے میں آئے اس وقت کے ایس ایس پی اور موجودہ ڈی آئی جی ایس ٹی ایف اننت دیو تیواری کو منگل کی شب حکومت نے ہٹاکر مرادآباد پی اے سی میں بھیج دیا۔ ابھی تک وہ ایس ٹی ایف کی اس ٹیم کا حصہ تھے جو کانپور تصادم کی تفتیش کر رہی ہے۔

منگل کو خط معاملہ کی تفتیش کرنے پہنچیں آئی جی لکشمی سنگھ کی رپورٹ آنے کے بعد یوگی حکومت نے انہیں ہٹانے کا فیصلہ کیا۔ اس سے قبل سی او دیویندر مشرا کے اہل خانہ نے بھی اننت دیو پر سوال کھڑے کیے تھے۔ اسی کے ساتھ وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ پورے معاملہ میں جانچ کے احکامات صادر کر چکے ہیں۔

next