فلمساز اور سماجی کارکن عائشہ سلطانہ کے خلاف ملک سے غداری کا کیس درج

لکشدیپ میں مجوزہ قانون کے خلاف مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے والی سماجی کارکن عائشہ سلطانہ نے اپنے اوپر ملک سے غداری کا کیس درج کیے جانے کے بعد ایک فیس بک پوسٹ کے ذریعہ رد عمل ظاہر کیا ہے۔

فلمساز اور سماجی کارکن عائشہ سلطانہ
فلمساز اور سماجی کارکن عائشہ سلطانہ
user

تنویر

لکشدیپ گزشتہ کچھ دنوں سے متنازعہ اصلاحات کو لے کر کافی سرخیوں میں ہے اور لکشدیپ سے اب تازہ خبر یہ آ رہی ہے کہ فلمساز و سماجی کارکن عائشہ سلطانہ کے خلاف ملک سے غداری کا کیس درج کیا گیا ہے۔ یہ کیس مقامی بی جے پی لیڈر کی شکایت کے بعد درج کیا گیا ہے جن کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنے ایک بیان سے مرکز کی مودی حکومت کی شبیہ خراب کرنے کی کوشش کی ہے۔ غور طلب بات یہ ہے کہ بی جے پی کارکنان نے کیرالہ میں بھی عائشہ کے خلاف شکایت درج کرائی ہے۔

میڈیا ذرائع سے موصول ہو رہی خبروں کے مطابق عائشہ سلطانہ کے خلاف لکشدیپ یونٹ کے بی جے پی صدر عبدالقادر نے کروتّی پولس اسٹیشن میں شکایت لگائی ہے جس کے بعد ان پر دفعہ 124 اے (ملک سے غداری) اور 153 بی (تشدد آمیز بیان) کے تحت کیس درج کر لیا گیا ہے۔ بی جے پی لیڈر کو عائشہ کے اس بیان سے تکلیف پہنچی ہے جو انھوں نے ایک ٹی وی مباحثہ کے درمیان دیا تھا اور ’بایو ویپن‘ (نامیاتی اسلحہ) جیسے لفظ کا استعمال کیا تھا۔

عبدالقادر کا الزام ہے کہ ’’عائشہ نے ایک ملیالم چینل پر بحث کے دوران مرکز کے زیر انتظام خطہ (لکشدیپ) میں کورونا کے تعلق سے جھوٹی خبر پھیلائی۔ انھوں نے کہا تھا کہ مرکزی حکومت نے لکشدیپ میں کورونا کے پھیلاؤ کے لیے بایو ویپن کا استعمال کیا۔‘‘ بی جے پی لیڈر کا مزید کہنا ہے کہ ’’عائشہ کا بیان ملک مخالف ہے جس سے مرکزی حکومت کی شبیہ خراب ہو رہی ہے۔ ایسا دوبارہ نہ ہو اس لیے عائشہ کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے۔‘‘

لکشدیپ میں مجوزہ قانون کے خلاف مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے والی عائشہ سلطانہ نے اپنے اوپر ملک سے غداری کا کیس درج کیے جانے کے بعد ایک فیس بک پوسٹ کے ذریعہ رد عمل بھی ظاہر کیا ہے۔ انھوں نے لکھا ہے کہ ’’میں نے ٹی وی چینل کی بحث میں بایو ویپن لفظ کا استعمال کیا تھا۔ میں نے محسوس کیا تھا کہ پٹیل (پرفل پٹیل) اور ان کی پالیسیاں بایو ویپن کی شکل میں ہیں۔ پٹیل اور ان کی پارٹی کے ذریعہ سے ہی لکشدیپ میں کووڈ-19 پھیلا۔ میں نے پٹیل کا موازنہ بایو ویپن سے کیا، حکومت یا ملک سے نہیں۔ آپ کو یہ سمجھنا چاہیے۔‘‘

یہاں قابل ذکر ہے کہ لکشدیپ کے چیٹی آتھ جزیرہ کی باشندہ عائشہ سلطانہ ماڈل بھی رہ چکی ہیں اور انھوں نے کئی ملیالم فلموں میں کام کیا ہے۔ عائشہ طویل مدت سے وہاں کی حکومت کے خلاف اپنی آواز بلند کرتی رہی ہیں۔ اپنے تازہ متنازعہ بیان کو لے کر بھی وہ پرعزم ہیں اور اسے درست ٹھہرا رہی ہیں۔ ’لکشدیپ ساہتیہ پرورتک سنگم‘ کی جانب سے بھی عائشہ کو حمایت مل رہی ہے۔ اس ادارہ کا کہنا ہے کہ ’’عائشہ کو غدارِ وطن کی شکل میں دکھانا درست نہیں ہے۔ انھوں نے ایسا کوئی بیان نہیں دیا ہے۔‘‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 11 Jun 2021, 5:11 PM