آسام: مسلمانوں کی آبادی سے متعلق سرما کے بیان پر تنازعہ، رکن اسمبلی نے کہا- ’آبادی بڑھنے کی اصل وجہ تلاش کریں‘

آسام کے وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا سرما نے کہا ہے کہ مہاجر مسلمان اپنی آبادی کو قابو میں رکھیں تاکہ زمین پر غیر قانون قبضوں جیسے مسائل کو حل کیا جا سکے، اس پر اے آئی یو ڈی ایف نے پلٹ وار کیا ہے

ہیمنت بسوا سرما
ہیمنت بسوا سرما
user

قومی آوازبیورو

گوہاٹی: آسام کے وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا سرما کے اس بیان پر تنازعہ پیدا ہو گیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ مہاجر مسلمان اپنی آبادی کو قابو میں رکھیں تاکہ سماجی سمائل کو حل کیا جا سکے۔ سرما نے کہا تھا کہ ’’اگر آبادی اسی طرح سے بے قابو رہی تو ایک دن کاماکھیا مندر کی زمین پر بھی قبضہ کر لیا جائے گا، یہاں تک کہ میرے گھر پر بھی قبضہ ہو جائے گا!‘‘ اس پر پلٹ وار کرتے ہوئے اے آئی یو ڈی ایف کے لیڈران نے کہا ہے کہ ہیمنت بسوا سرما کا بیان سیاست پر مبنی اور ایک طبقہ کو نشانہ بنانے والا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ آبادی بڑھنے کی اصل وجوہات پر توجہ نہیں دے رہے اور بے وجہ مسلمانوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

بدر الدین اجمل کی جماعت اے آئی یو ڈی ایف کے رکن اسمبلی حافظ رفیق الاسلام نے ہیمت بسوا سرما کے بیان کے جواب میں کہا، ’’یہ کہنے کے بجائے کہ مخصوص طبقہ کے زیادہ بچے ہیں، وزیر اعلیٰ کو اسے قابو میں کرنے کے طریقے اور اس کی وجہ تلاش کرنی چاہئے۔ یہاں تک کہ ان کے بھی 6-7 بھائی بہن ہیں اور میں نے سنا ہے کہ اسپکر کے بھی 8 بھائی بہن ہیں۔‘‘

انہوں نے مزید کہا، ’’اور آبادی کا بڑھنا کیس ایک قبیلہ کا مسئلہ نہیں ہے میں زیادہ بچے پیدا کرنے کی تجویز نہیں دے ہا۔ وزیر اعلیٰ کو لوگوں کو سمجھانا چاہیے کہ کم بچے پیدا کریں۔ لیکن بی جے پی کی حکومت ایک طبقہ کے کام کرتی ہے اور دوسروں کو نظر انداز کرتی ہے۔‘‘

خیال رہے کہ ہیمنت بسوا سرما نے بطور وزیر اعلیٰ اپنے مدت کار کے 3 مہینے مکمل کر لئے ہیں۔ انہوں نے گوہاٹی میں ایک پریس کانفرنس کے دوران تجاوزات مخالف مہمات کے حوالہ سے ایک سوال کے جواب میں یہ تبصرہ کیا۔ دراصل آسام میں اس وقت تجاوزات کے خلافف مہم چلائی جا رہی ہے اور جن لوگوں سے زمینیں خالی کرائی گئی ہیں ان میں مہاجر مسلم طبقہ سے تعلق رکھتے ہیں۔

آسام کے وسطی اور ذیلی علاقوں رہائش پزیر بنگالی زبان بولنے والے مسلمانون کو بنگلہ دیش سے ہجرت کر کے یہاں آنے والے مسلمان قرار دیا جاتا ہے۔ گزشتہ اسمبلی انتخابات میں بی جے پی نے ایسا بیانیہ تیار کیا کہ آسام کے بنیادی طبقات کو مسلمانون سے بچانا ضروری ہے۔

آسام کی 3.12 کروڑ کی آبادی میں مہاجر مسلمانوں کی تعداد تقریباً 31 فیصد ہے اور 126 اسمبلی سیٹوں میں سے 35 میں وہ فیصلہ کن صورت حال میں ہیں۔ وزیر اعلیٰ سرما نے کہا کہ انہوں نے گزشتہ اجلاس میں ہی آبادی پالیسی نافذ کر دی ہے۔ ہم خصوصی طور پر اقلیتی مسلمانون کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتے ہیں تاکہ آبادی کے بوجھ کو کم کیا جا سکے۔

ادھر، اے آئی یو ڈی ایف کے جنرل سکریٹری امین الاسلام نے کہا کہ وزیر اعلی کا بیان سیاست پر مبنی اور ایک برادری کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب ریاستی حکومت نے آبادی کی پالیسی بنائی تو ہم نے اس کی مخالفت نہیں کی، لیکن بدقسمتی سے وزیر اعلیٰ کو آبادی کے بڑھنے کی اصل وجہ نظر نہیں آ رہی۔ اس کی سب سے بڑی وجہ غربت اور ناخواندگی ہے اور اس کے لئے انہوں نے کوئی پالیسی مرتب نہیں کی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 11 Jun 2021, 3:16 PM