یوپی انتخابات سے قبل سیاسی جماعتوں سے اے ایم یو اولڈ بوئز ایسوسی ایشن کے نو مطالبات

اے ایم یو اولڈ بوئز ایسوسی ایش کے صدر پروفیسر شکیل احمد قدوائی نے کہا کہ ہم مغربی بنگال حکومت کی طرز پر اعلیٰ تعلیمی اداروں میں مسلمانوں کے لیے ریزرویشن کا مطالبہ کرتے ہیں۔

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، تصویر آئی اے این ایس
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، تصویر آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

لکھنؤ: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اولڈ بوائز ایسوسی ایشن (اے ایم یو او بی اے) کی لکھنؤ شاخ نے اتر پردیش اسمبلی انتخابات کے لیے اقلیتی ووٹوں کی دوڑ میں شامل سیاسی جماعتوں کے لئے اپنے نو مطالبات کی فہرست جاری کی ہے۔ اے ایم یو اولڈ بوئز ایسوسی ایشن نے کہا کہ مسلمانوں اور دیگر پسماندہ برادریوں کے لیے سیاسی جماعتوں کے ساتھ سودے بازی کرنے کا یہ صحیح وقت ہے۔

سرکاری اداروں میں مسلمانوں کو ان کے ووٹ شیئر کے تناسب سے نمائندگی کا مطالبہ کرتے ہوئے، ایم یو اولڈ بوئز ایسوسی ایش کے صدر پروفیسر شکیل احمد قدوائی نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتیں پسماندہ برادریوں اور مسلمانوں کو ان کے حق میں ووٹ حاصل کرنے کے لیے لابنگ کر رہی ہیں۔ ان برادریوں کا سیاسی جماعتوں نے استحصال کیا ہے۔ کیونکہ انہیں ریاست میں کوئی سیاسی اہمیت نہیں دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ یہ مناسب وقت ہے کہ وہ ذات پات اور مذہب کی بنیاد پر سیاست میں آنے کے بجائے سودے بازی کریں۔


انہوں نے کہا کہ ہم مغربی بنگال حکومت کی طرز پر اعلیٰ تعلیمی اداروں میں مسلمانوں کے لیے ریزرویشن کا مطالبہ کرتے ہیں۔ اقلیتی اور دلت اکثریتی علاقوں میں اچھے اسکول، آئی ٹی آئی اور ووکیشنل سنٹرز کے قیام کا مطالبہ ہے۔ ہم لکھنؤ میں سرسید احمد خان کے نام پر اقلیتی یونیورسٹی کے قیام کا بھی مطالبہ کرتے ہیں۔ شکیل قدوائی نے پولیس اور نیم فوجی دستوں میں اقلیتوں کے لیے روزگار کے مواقع کے دروازے کھولنے اور دلت- مسلمانوں اور دلت عیسائیوں کے لیے ریزرویشن کے لیے دفعہ 341 کی مذہبی حد بندی کو ختم کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔