ممبئی کی 72 فیصد مساجد نے فجر کی اذان میں لاؤڈ اسپیکر کا استعمال ترک کر دیا!

ممبئی پولیس کے ذرائع کے حوالے سے خبر ہے کہ لاؤڈاسپیکر پر اذان تنازعے کو بڑھتا ہوا دیکھ بیشتر مساجد نے فجر کی اذان کی آواز پر قابو لیا، بیشتر نے فجر کے وقت لاؤڈاسپیکر کا استعمال ترک کردیا۔

علامتی تصویر
علامتی تصویر
user

محی الدین التمش

ممبئی اور مہاراشٹر میں لاؤڈاسپیکر پر اذان کے معاملے میں جاری تنازعہ اور سیاست کے درمیان مسلم سماج کی جانب سے ایک اہم پہل کی گئی ہے۔ ممبئی کی کئی مساجد نے فجر کی اذان کے لئے لاؤڈاسپیکر کی آواز کو کم کر دیا ہے اور کئی مساجد نے لاؤڈاسپیکر پر فجر کی اذان دینا بند کر دیا ہے۔

ممبئی پولیس کے ذرائع کے مطابق اندرونی سروے رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ ممبئی کی 72 فیصد مساجد نے فجر کی اذان کے وقت لاؤڈاسپیکر کی آواز کو از خود کم کر لیا ہے اور بیشتر مساجد نے فجر کی اذان لاؤڈاسپیکر پر دینے کا سلسلہ بند کر دیا ہے۔


واضح رہے راج ٹھاکرے نے لاؤڈاسپیکر پر اذان دینے کے معاملے میں اشتعال انگیزی کرتے ہوئے 3 مئی تک مساجد سے لاؤڈاسپیکر کو ہٹانے کا الٹی میٹم دیا تھا۔ مساجد سے لاؤڈاسپیکر نا ہٹانے کی صورت میں راج ٹھاکرے نے مساجد کے سامنے ہنومان چالیسہ بجانے کی بھی دھمکی دی تھی۔ لاؤڈاسپیکر پر اذان کے معاملے پر ہونے والی سیاست کو دیکھتے ہوئے بیشتر مساجد کے ذمہ داران نے از خود فجر کی اذان کے وقت سپریم کورٹ کی گائیڈلائن کی پیروی کرنی شروع کر دی ہے۔

سپریم کورٹ نے 2005 کے صوتی آلودگی سے متعلق اپنے فیصلے میں رات دس بجے سے صبح چھ بجے تک لاؤڈاسپیکر کے استعمال پر پابندی عائد کرنے کا حکم صادر کیا تھا۔ سپریم کورٹ کے ججمنٹ کی روشنی میں مساجد نے فجر کی اذان کے وقت لاؤڈاسپیکر کے استعمال پر قابو پاتے ہوئے صوتی آلودگی قانون پر عمل کرنا شروع کر دیا ہے۔


فجر کی اذان چونکہ صبح چھ بجے سے قبل دی جاتی ہے جبکہ سپریم کورٹ نے رات دس بجے سے چھ بجے تک لاؤڈاسپیکر کے استعمال پر روک لگا رکھی ہے۔ اس صورت میں مساجد کے ذمہ داروں نے پولیس کے دباؤ کے بغیر از خود فجر میں لاؤڈاسپیکر استعمال نہ کرنے کا فیصلہ لیا ہے۔

ممبئی پولیس کے ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق ممبئی کی 72 فیصد مسجد نے فجر کی اذان لاؤڈاسپیکر پر نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے یہ فیصلہ مسجد انتظامیہ نے اپنے طور پر ہی کیا ہے صوتی آلودگی کے اصول کا خیال رکھتے ہوئے مسجد انتظامیہ نے یہ پہل کی ہے۔ ممبئی کی مساجد کی اس پہل سے راج ٹھاکرے کی لاؤڈاسپیکر کی سیاست کو زبر دست جھٹکا لگا ہے۔


ریاستی حکومت نے بھی مذہبی مقامات پر لاؤڈاسپیکر کے استعمال کے لئے اجازت نامے کو لازمی قرار دیا ہے۔ مہاراشٹر کے وزیرداخلہ دلیپ ولسے پاٹل نے گزشتہ دنوں ریاست مہاراشٹر کے ڈی جی پی اور کمشنر سمیت اعلیٰ پولیس افسران کے ساتھ میٹنگ کرتے ہوئے لاؤڈ اسپیکر کے استعمال کے متعلق رہنمایانہ خطوط کو طے کرنے کی ہدایت دی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔