مہاراشٹر: حکمراں پارٹی کے 6 منتخب مسلم اراکین اسمبلی میں سے 4 کو وزیر بنانا خوش آئند

کانگریس-این سی پی-شیوسینا اتحاد کے 6 مسلم چہروں نے اسمبلی انتخابات میں فتحیابی حاصل کی جن میں سے 4 نے 30 دسمبر کو وزارتی عہدہ کا حلف لیا۔ گزشتہ بی جے پی حکومت میں ایک بھی مسلم چہرہ شامل نہیں تھا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

مہاراشٹر بطور ریاست 1960 میں وجود میں آیا تھا اور اس کے بعد سے اب تک ریاستی حکومت میں بننے والے مسلم وزراء کی تعداد 64 ہے۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو اُدھو ٹھاکرے کی قیادت میں بنی کانگریس-این سی پی-شیوسینا مہا اگھاڑی حکومت میں 4 مسلم چہروں کا وزیر بنایا جانا خوش آئند تصور کیا جا رہا ہے۔ سیاسی ماہرین اس قدم کو اس لیے بھی بہتر بتا رہے ہیں کیونکہ ملک میں مسلمانوں کے خلاف ایک فضا بنانے کی کوشش ہو رہی ہے اور خصوصی طور سے بی جے پی کی پالیسی اس تعلق سے مسلم مخالف ہی رہی ہے۔

دراصل مہاراشٹر میں گزشتہ بی جے پی حکومت کے دوران ایک بھی مسلم وزیر نہیں تھا اور اس کی وجہ یہ تھی کہ انھوں نے 2014 کے اسمبلی انتخابات میں مسلم چہروں کو توجہ نہیں دی تھی اس لیے بی جے پی سے کوئی مسلم لیڈر منتخب ہی نہیں ہوا تھا۔ لیکن 2019 اسمبلی انتخاب میں مجموعی طور پر 10 مسلم چہرے رکن اسمبلی بنے جن میں سے 3 کا تعلق کانگریس سے، 2 کا تعلق این سی پی سے، 1 کا تعلق شیوسینا سے، 2 کا تعلق ایم آئی ایم آئی ایم سے، 2 کا تعلق سماجوادی پارٹی سے ہے۔ گویا کہ اس بار بھی بی جے پی سے کوئی مسلم چہرہ منتخب ہو کر نہیں آیا ہے۔

بہر حال، حکمراں اتحاد یعنی کانگریس-این سی پی-شیوسینا پر مشتمل مہااگھاڑی اتحاد میں کل 6 مسلم اراکین اسمبلی ہیں جن میں سے 4 کو وزارتی عہدہ کا حلف 30 دسمبر کو دلایا گیا۔ جہاں تک سب سے زیادہ مسلم چہروں کی نمائندگی والی مہاراشٹر حکومت کا سوال ہے، تو 1999 سے 2003 کے درمیان ولاس راؤ دیشمکھ کی قیادت والی کانگریس حکومت میں مجموعی طور پر 7 مسلم چہرے وزیر بنے تھے جن میں سے دو کو کابینہ وزیر بنایا گیا تھا۔ ویسے 2014 سے قبل کی کانگریس حکومت میں بھی 4 مسلم چہروں کو جگہ ملی تھی۔

اس مرتبہ این سی پی اور شیوسینا نے اپنے سبھی مسلم اراکین اسمبلی (بالترتیب 2 اور1) کو وزیر بنایا ہے جب کہ کانگریس نے 3 میں سے ایک مسلم رکن اسمبلی کو وزارتی عہدہ دیا ہے۔ شیوسینا کے واحد مسلم رکن اسمبلی عبدالستار ہیں جنھیں وزارتی عہدہ ملا ہے اور انھوں نے اورنگ آباد کے سلوڈ اسمبلی سیٹ سے فتحیابی حاصل کی ہے۔ قابل ذکر یہ بھی ہے کہ عبدالستار انتخاب سے ٹھیک پہلے کانگریس چھوڑ کر شیوسینا میں شامل ہوئے تھے۔ این سی پی کی جانب سے نواب ملک اور حسن مشرف مسلم اراکین اسمبلی ہیں جنھیں وزارتی عہدہ ملا ہے۔ نواب ملک نے جہاں چیمبور اسمبلی سیٹ سے کامیابی حاصل کی وہیں حسن مشرف کاگل اسمبلی سیٹ سے کامیاب ہوئے۔

کانگریس پارٹی کے تین مسلم اراکین اسمبلی یعنی امین پٹیل، ذیشان بابا صدیقی اور اسلم شیخ رکن اسمبلی میں اسلم شیخ کو وزارتی عہدہ دیا گیا ہے۔ اسلم شیخ ممبئی کے ملاڈ علاقہ سے منتخب ہو کر آئے ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ اسلم شیخ لگاتار تیسری مرتبہ کانگریس کی طرف سے رکن اسمبلی منتخب ہوئے ہیں اور وہ کانگریس کے مضبوط مسلم چہرہ تصور کیے جاتے ہیں۔

next