بی جے پی کو جھٹکا دے کر 350 کارکنان ترنمول میں شامل، ’گنگا جَل‘ چھڑک کر کیا گیا پاک!

سینکڑوں کی تعداد میں بی جے پی کارکنان ٹی ایم سی ہیڈکوارٹر کے سامنے دھرنے پر بیٹھ گئے اور ضد کرنے لگے کہ جب تک انھیں ترنمول میں شامل نہیں کیا جاتا وہ دھرنا ختم نہیں کریں گے۔

تصویر آئی اے این ایس
تصویر آئی اے این ایس
user

تنویر

مغربی بنگال میں دن بہ دن بی جے پی کمزور ہوتی جا رہی ہے۔ سرکردہ بی جے پی لیڈر مکل رائے اور ان کے بیٹے شبھرانشو رائے کے ذریعہ ترنمول کانگریس میں واپسی کرنے کے بعد ترنمول میں گھر واپسی کا سلسلہ تیز ہو گیا ہے جس سے بی جے پی کی پریشانیاں مزید بڑھ گئی ہیں۔ اسمبلی انتخابات کے نتائج برآمد ہونے کے بعد سے ہی کئی بی جے پی لیڈران و کارکنان نے پارٹی سے الگ ہونے کا اشارہ دے دیا تھا اور اب اس پر عمل آوری کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔

تازہ ترین خبروں کے مطابق بنگال کے بیربھوم ضلع واقع سینتھیا علاقے میں 350 بی جے پی کارکنان نے ٹی ایم سی ہیڈکوارٹر پر دھرنا دیا اور کہا کہ جب تک انھیں پارٹی میں شامل نہیں کر لیا جاتا، وہ دھرنا ختم نہیں کریں گے۔ ان کارکنان نے بی جے پی میں جانے کو اپنی غلطی بتایا اور کہا کہ وہ ہر حال میں ترنمول کانگریس میں واپسی کرنا چاہتے ہیں۔ میڈیا ذرائع کے مطابق تقریباً چار گھنٹے تک یہ دھرنا چلا، پھر ترنمول کانگریس لیڈران نے انھیں پارٹی میں شامل کر لیا۔ لیکن اس سے پہلے سبھی بی جے پی کارکنان پر ’گنگا جَل‘ کا چھڑکاؤ کیا گیا تاکہ وہ پاک صاف ہو جائیں۔


یہاں قابل ذکر ہے کہ کچھ دنوں قبل بھی بیربھوم میں ترنمول کانگریس میں شامل ہونے کی ضد پکڑ کر بی جے پی کارکنان ٹی ایم سی دفتر کے باہر دھرنے پر بیٹھ گئے تھے۔ یہ ایک نیا ٹرینڈ اس وقت مغربی بنگال میں دیکھنے کو مل رہا ہے جہاں بی جے پی کارکنان ٹی ایم سی میں واپسی کے لیے ٹی ایم سی دفتر کے باہر دھرنا و مظاہرہ کر رہے ہیں۔ اس نئی روایت کے بارے میں بی جے پی کا کہنا ہے کہ الیکشن کے بعد جو تشدد کا واقعہ پیش آیا ہے، اس سے خوفزدہ ہو کر بی جے پی کارکنان ترنمول کانگریس میں شامل ہو رہے ہیں۔ بی جے پی رکن پارلیمنٹ ارجن سنگھ کا کہنا ہے کہ بی جے پی کارکنان کے پاس کوئی راستہ نہیں رہ گیا ہے کیونکہ جس طرح کا تشدد ریاست میں ہوا ہے وہ حیرت انگیز ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔