بنگال اسمبلی میں 35 مسلم چہرے، کانگریس کے حصے میں آنے والی دونوں سیٹوں پر مسلم امیدواروں کا قبضہ
مجموعی طور پر کانگریس، سی پی آئی (ایم)، اے آئی ایس ایف اور اے جے یو پی کو بنگال میں جو سیٹیں ملی ہیں، وہ صرف مسلم امیدواروں کی صورت میں ہی ملی ہیں۔
مغربی بنگال اسمبلی انتخاب میں بی جے پی نے تاریخ رقم کر دی ہے۔ بی جے پی نے بنگال میں 206 سیٹیں جیتیں، جبکہ ٹی ایم سی کو 80 سیٹوں پر جیت حاصل ہوئی اور گزشتہ اسمبلی انتخاب میں ایک بھی سیٹ حاصل نہ کرنے والی کانگریس کو 2 سیٹوں پر کامیابی ملی ہے۔ خاص بات یہ ہے کانگریس کے جو 2 امیدوار جیتے ہیں وہ دونوں ہی مسلمان ہیں۔
ممتا بنرجی کی شکست کے متعلق کہا جا رہا ہے کہ ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظر ثانی (ایس آئی آر) کی بدولت ان کے حامیوں کے نام ووٹر لسٹ سے غائب ہونے کی وجہ سے بڑا نقصان ہوا ہے۔ ساتھ ہی کچھ حد تک مسلم ووٹ بھی دیگر پارٹیوں میں تقسیم ہو گئے ہیں۔ واضح رہے کہ ممتا بنرجی نے بنگال میں جن 80 سیٹوں پر جیت حاصل کی ہے، ان میں سے پارٹی کے 29 مسلم امیدوار جیت حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ ٹی ایم سی نے رواں اسمبلی انتخاب میں مجموعی طور پر 47 مسلمانوں کو ٹکٹ دیا تھا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ممتا بنرجی کے اتارے گئے کل مسلم امیدواروں میں سے 50 فیصد سے زائد نے جیت حاصل کی ہے۔
اگر دیگر پارٹیوں کی بات کی جائے تو بی جے پی نے اپنی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے بنگال میں ایک بھی مسلمان کو ٹکٹ نہیں دیا تھا۔ مسلمانوں کو سب سے زیادہ ٹکٹ دینے والی پارٹی کانگریس تھی، جس نے 294 سیٹوں میں سے 78 پر مسلم امیدوار اتارے تھے۔ لیفٹ نے 29 مسلم امیدواروں کو ٹکٹ دیے تھے اور اے آئی ایس ایف نے 24 مسلمانوں کو میدان میں اتارا تھا۔ اس کے علاوہ ہمایوں کبیر نے اپنی نئی پارٹی عام جنتا اونین پارٹی (اے جے یو پی) کی جانب سے 182 امیدوار میدان میں اتارے تھے، ان میں سے بیشتر ٹکٹ مسلمانوں کو ہی دیے تھے۔
مجموعی طور پر بات کی جائے تو رواں بنگال اسملی انتخاب میں تمام پارٹیوں کو ملا کر 35 مسلم امیدوار کامیاب ہوئے۔ ان میں سب سے زیادہ 29 ٹی ایم سی سے جیت کر اسمبلی پہنچے ہیں۔ کانگریس سے 2 رکن اسمبلی موتاب شیخ اور ذوالفقار علی کامیاب ہوئے ہیں۔ سی پی آئی (ایم) کو بنگال میں صرف ایک سیٹ پر جیت ملی ہے، وہ بھی مسلم امیدوار محمد مستفیض الرحمٰن کی شکل میں۔ اسی طرح اے آئی ایس ایف کو بنگال میں صرف ایک سیٹ پر جیت حاصل ہوئی ہے، وہ بھی ایک مسلم امیدوار ہی ہے اور ان کا نام محمد نوشاد صدیقی ہے۔ اس کے علاوہ ٹی ایم سی کو چھوڑ کر الگ پارٹی بنانے والے ہمایوں کبیر کو صرف 2 سیٹوں پر جیت حاصل ہوئی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ دونوں سیٹیں ہمایوں کبیر نے ہی جیتی ہیں، ان کی پارٹی کے دیگر امیدواروں کو کوئی سیٹ نہیں مل پائی ہے۔ مجموعی طور پر کانگریس، سی پی آئی (ایم)، اے آئی ایس ایف اور اے جے یو پی کو بنگال میں جو سیٹیں ملی ہیں وہ مسلم امیدواروں کی شکل میں ہی ملی ہیں۔
بنگال کی فرکا اسمبلی نشست پر کانگریس کے موتاب شیخ نے جیت حاصل کی ہے۔ موتاب نے بی جے پی امیدوار سنیل چودھری کو شکست دی ہے۔ موتاب کو کل 63050 ووٹ ملے جبکہ سنیل چودھری کو 54857 ووٹ ملے۔ کانگریس امیدوار نے 8193 ووٹوں سے جیت حاصل کی۔ یہاں تیسرے نمبر پر ٹی ایم سی امیدوار امیر الاسلام رہے، جنہیں 47256 ووٹ ملے۔ فرکا اسمبلی نشست سے کل 12 امیدوار میدان میں تھے، جن میں سے 7 مسلمان تھے۔ صرف بی جے پی نے ایک غیر مسلم امیدوار کو ٹکٹ دیا تھا۔
کانگریس نے دوسری سیٹ رانی نگر اسمبلی جیتی ہے۔ رانی نگر ایک مسلم اکثریتی علاقہ ہے جہاں انتخابی میدان میں کل 15 امیدوار موجود تھے۔ ان میں سے 11 مسلمان تھے۔ کانگریس کے امیدوار ذوالفقار علی نے مجموعی طور پر 79423 ووٹ حاصل کیے۔ انہوں نے ٹی ایم سی کے مسلم امیدوار عبدالسمیع حسین کو شکست دی، جنہیں76722 ووٹ ملے اور وہ 2,701 ووٹوں کے فرق سے ہار گئے۔ اس نشست پر بی جے پی تیسرے نمبر پر رہی۔ خاص بات یہ تھی کہ اس سیٹ پر صرف بی جے پی ہی ایسی پارٹی تھی جس نے غیر مسلم امیدوار کو ٹکٹ دیا تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ذوالفقار علی نام کے 2 دیگر آزاد امیدواروں نے بھی الیکشن لڑا، جن میں سے ایک کو 454 اور دوسرے کو 356 ووٹ ملے۔
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
