بی ایم سی انتخاب میں 334 مسلم امیدوار آزما رہے ہیں قسمت، بی جے پی سے ایک بھی نہیں
2017 کے بی ایم سی انتخاب میں 31 مسلم امیدوار کامیاب ہوئے تھے۔ سب سے زیادہ کامیابی کانگریس کو ملی تھی، جس کے 11 مسلم امیدوار جیت کر آئے تھے۔ اس بار پارٹی نے 33 مسلم امیدواروں کو میدان میں اتارا ہے۔

مہاراشٹر کے کئی شہروں میں کرائے جار ہے بلدیاتی انتخاب کی تشہیر اب اپنے آخری مرحلے میں ہے، لیکن سب کی نظریں ملک کی سب سے امیر برہان ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) کے انتخاب پر مرکوز ہیں۔ کیونکہ اس بار بی ایم سی انتخاب میں مذہبی ماحول زیادہ نظر آ رہا ہے، اس کے باوجود مسلم امیدواروں کی اوسط نمائندگی تقریباً پہلی جیسی ہی ہے۔ اس بار ممبئی میں مختلف سیاسی جماعتوں اور آزاد امیدواروں کو ملا کر مجموعی طور پر 334 مسلم امیدوار انتخابی میدان میں ہیں۔
بی ایم سی انتخاب میں سب سے زیادہ مسلم امیدواروں کو ٹکٹ دینے کے معاملے میں اسدالدین اویسی کی پارٹی اے آئی ایم آئی ایم سب سے آگے رہی ہے۔ اس کے علاوہ سماجوادی پارٹی اور اجیت پوار گروپ کی راشٹروادی کانگریس پارٹی نے بھی بہت سارے مسلم امیدواروں کو ٹکٹ دیے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی نے بھی ایک مسلم امیدوار کو ٹکٹ نہیں دیا ہے جبکہ شیوسینا کے دونوں دھڑوں نے مسلم امیدواروں کو انتخابی میدان میں اتارا ہے۔
واضح رہے کہ ممبئی شہر میں مسلم ووٹرس کی تعداد 25.6 فیصد ہے جبکہ مضافاتی علاقوں میں 19.19 فیصد ہے۔ 2017 کے انتخاب میں تمام سیاسی پارٹیوں اور آزاد امیدواروں کو ملا کر مجموعی طور پر 360 مسلم امیدوار میدان میں تھے۔ جبکہ اس مرتبہ مجموعی طور پر 1700 امیدوار بی ایم سی انتخاب میں اپنی قسمت آزما رہے ہیں، ان میں سے 334 امیدوار (تقریباً 19) فیصد مسلم طبقہ سے آتے ہیں۔ حالانکہ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ کئی مسلم اکثریتی وارڈوں میں اس بار خواتین ریزرویشن نافذ ہونے کی وجہ سے مرد امیدواروں کی تعداد میں کمی آئی ہے۔ ممبئی میں کُل 45 وارڈ مسلم اکثریتی ہیں، جن میں سے 30 وارڈ میں مسلم ووٹرس فیصلہ کن کردار میں ہیں۔
بی ایم سی انتخاب میں سب سے زیادہ اے آئی ایم آئی ایم نے مسلم امیدواروں کو ٹکٹ دیا ہے، پارٹی نے 32 امیدوار میدان میں اتارے ہیں، جس میں سے 25 مسلم امیدوار ہیں اور یہ کل تعداد کا 78 فیصد ہے۔ مسلم امیدواروں کو ٹکٹ دینے کے معاملے میں مجلس کے بعد سماجوادی پارٹی کا نمبر آتا ہے، پارٹی کے 70 امیدواروں میں سے 50 امیدوار (71 فیصد) مسلم ہیں۔ مسلم امیدواروں کو ٹکٹ دینے میں تیسرے نمبر پر ہے اجیت پوار کی این سی پی، پارٹی کے 94 امیدوار میدان میں اپنی قسمت آزما رہے ہیں، جس میں 24 فیصد یعنی 23 مسلم امیدوار ہیں۔ کانگریس نے بھی 21 فیصد ٹکٹ مسلم امیدواروں کو دیے ہیں، پارٹی 150 سیٹوں پر انتخاب لڑ رہی ہے اور ان میں سے 33 سیٹوں پر مسلم امیدوار اپنی قسمت آزما رہے ہیں۔
بی جے پی نے بی ایم سی انتخاب میں 137 امیدوار اتارے ہیں، لیکن ایک بھی مسلم امیدوار پارٹی کے ٹکٹ پر انتخابی میدان میں نہیں ہے۔ جبکہ نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے کی پارٹی شیوسینا نے اپنے 91 امیدواروں میں سے 10 فیصد یعنی 10 مسلم امیدواروں کو ٹکٹ دیا ہے۔ ادھو ٹھاکرے کی قیادت والی شیوسینا نے 163 امیدوار بی ایم سی انتخاب میں اتارے ہیں اور اس میں سے 8 امیدوار (5 فیصد) مسلم ہیں۔ راج ٹھاکے کی مہاراشٹر نوَنِرمان سینا بھی بی ایم سی میں 53 سیٹوں پر انتخاب لڑ رہی ہے، پارٹی نے صرف 2 مسلم امیدواروں کو ہی ٹکٹ دیا ہے۔ سیاسی پارٹیوں کے علاوہ 334 میں سے 91 مسلم امیدوار بطور آزاد امیدوار انتخاب لڑ رہے ہیں۔
بی جے پی نے وارڈ نمبر 124 سے شکیل انصاری کو اپنے واحد مسلم امیدوار کے طور پرمیدان میں اتارا تھا، لیکن ان کی پرچہ نامزدگی کو کالعدم ٹھہرائے جانے کی وجہ سے بی جے پی کا ایک بھی مسلم امیدوار انتخابی میدان میں نہیں ہے۔ اگر دیگر پارٹیوں کی بات کی جائے تو بی ایس پی (8)، عام آدمی پارٹی (9)، بھارتیہ کمیونسٹ پارٹی (1)، بھارتیہ کمیونسٹ پارٹ-مارکس (1)، جنتا دل (1)، مسلم لیگ (2)، اور ریپبلکن پارٹی (3) وغیرہ نے مجموعی طور پر 45 مسلم امیدوار میدان میں اتارے ہیں۔
قابل ذکر ہے کہ اگر گزشتہ انتخابی نتائج پر نظر ڈالیں تو 2017 کے بی ایم سی انتخاب میں مجموعی طور پر 31 مسلم امیدوار کامیاب ہوئے تھے۔ ان میں سے سب سے زیادہ کامیابی کانگریس کو ملی تھی، پارٹی کے 11 مسلم امیدوار جیت کر آئے تھے۔ کانگریس کے علاوہ سماجوادی پارٹے کے 7، غیر منقسم این سی پی کے 6، اے آئی ایم آئی ایم کے 4، غیر منقسم شیوسینا کے 2 اور ایک آزاد امیدوار شامل تھے۔