کسان تحریک کے 300 دن مکمل، اب بھی قانون واپسی تک گھر نہ لوٹنے کا عزم

22 ستمبر کو کسان تحریک کے 300 دن مکمل ہونے پر سنیوکت کسان مورچہ نے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں کہا ہے کہ یہ تحریک ملک کے لاکھوں کسانوں کے عزائم کا ثبوت ہے۔

کسان تحریک / آئی اے این ایس
کسان تحریک / آئی اے این ایس
user

تنویر

مودی حکومت کے ذریعہ پاس کردہ تین نئے زرعی قوانین کے خلاف کسانوں کی تحریک کو 300 دن مکمل ہو گئے ہیں، لیکن اب بھی نہ حکومت جھکنے کو تیار ہے نہ ہی کسان لیڈران۔ ایک طرف مرکزی وزراء نے صاف لفظوں میں کہہ دیا ہے کہ وہ زرعی قوانین میں ترمیم تو کرنے کے لیے تیار ہیں لیکن قانون واپسی پر راجی نہیں، اور دوسری طرف کسانوں نے بھی کہہ دیا ہے کہ جب تک تینوں قوانین واپس نہیں ہوتے اور ایم ایس پی پر قانون نہیں بنایا جاتا وہ دہلی کی سرحدوں پر جمے رہیں گے، گھر واپسی کے بارے میں سوچیں گے بھی نہیں۔

آج تحریک کے 300 دن مکمل ہونے پر سنیوکت کسان مورچہ نے ایک بیان بھی جاری کیا ہے جس میں کہا ہے کہ یہ تحریک ملک کے لاکھوں کسانوں کے عزائم کا ثبوت ہے۔ کسان تنظیموں نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ کسان پرامن طریقے سے سیاہ قوانین کے خلاف تحریک کر رہے ہیں اور مطالبہ جب تک پورا نہیں ہوتا، یہ تحریک جاری رہے گی۔ مشترکہ بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ حکومت ضدی رویہ اختیار کر کے کسانوں کے جائز مطالبات کو نہیں مان رہی، یہ حالت تب ہے جب ملک میں کسانوں کی سب سے بڑی شراکت داری ہے۔


کسان لیڈر گرنام سنگھ چڈھونی نے اس موقع پر کہا کہ حکومت سرحدوں کو کھلونے کا خواب نہ دیکھے، کسان قانون واپسی تک گھر نہیں جانے والے ہیں۔ ہریانہ بھارتیہ کسان یونین (چڈھونی) کے سربراہ گرنام سنگھ نے کہا کہ جب تک مرکزی حکومت تینوں نئے قوانین کو واپس نہیں لیتا، تب تک دہلی کی سرحدوں پر بیٹھے کسان وہاں سے نہیں ہلیں گے۔ حکومت چاہے جتنا دباؤ ڈالے لیکن کسان قانون رد ہونے تک ہریانہ-دہلی بارڈر سے ایک انچ بھی نہیں ہلیں گے۔ چڈھونی آئندہ 27 ستمبر کو بلائے گئے ’بھارت بند‘ کو لے کر بھی پرجوش نظر آئے اور کہا کہ اس طرح کے احتجاجی مظاہرے حکومت کے خلاف ہوتے رہیں گے۔ قابل ذکر ہے کہ کسان تنظیموں نے 27 ستمبر کو ہونے والے ’بھارت بند‘ کو لے کر تیاریاں تیز کر دی ہیں۔ سنیوکت کسان مورچہ نے کہا ہے کہ ملک کے الگ الگ حصوں میں سماج کے مختلف طبقات سے کسان تنظیمیں رابطہ کر رہی ہیں تاکہ کسانوں کے مطالبات کو لے کر حمایت حاصل کی جا سکے۔ کسان تنظیموں کا کہنا ہے کہ یہ تحریک ملک کی جمہوریت کو بچانے کی تحریک بن گیا ہے، اور جب تک کسانوں کے مطالبات پورے نہیں ہوتے، یہ جاری رہے گی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔