90 ہزار روپے میں خریدے 2 ریمیڈیسیور انجکشن نکلے نقلی، مریض کی موت کے بعد ہوا حقیقت کا انکشاف

منوج کی آخری رسومات کے بعد ان کے بیٹے سنسکار اگروال نے انجکشن کے ڈبے کو دیکھا تو شبہ ہوا۔ وہ 8 جون کو بریلی کے ایس ایس پی منوج سجوان سے ملے، جنھوں نے ڈرگ انسپکٹر سے جانچ کرائی۔

تصویر بذریعہ سوشل میڈیا
تصویر بذریعہ سوشل میڈیا
user

مشاہد رفعت

بریلی: بریلی میں نقلی ریمیڈیسیور انجکشن کی کالابازاری کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ ڈبے پر 5400 روپے قیمت درج ہے، لیکن تیمارداروں کی مجبوری کا فائدہ اٹھا کر دو نقلی انجکشن 90 ہزار روپے میں فروخت کیے گئے۔ مریض کی موت کے کئی دن بعد گھر والوں کو پتہ چلا کہ انجکشن نقلی تھے۔ حالانکہ اس انجکشن (کووی پری) کے بارے میں ایک ہفتہ پہلے ہی پریس انفارمیشن بیورو (پی آئی بی) فیکٹ چیک کر کے ٹوئٹر پر بتا چکا ہے کہ یہ نقلی ہے لیکن بریلی میں ڈرگ محکمہ کے افسر کہہ رہے ہیں کہ شیشی خالی ہے اس لیے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ انجکشن اصلی تھا یا نقلی۔ پولس نے میڈیکل اسٹور کے مالک کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے، لیکن وہ پولس کے پہنچنے سے پہلے ہی فرار ہو چکا تھا۔

دراصل فتح گنج مغرب کے محلہ ساہوکارا باشندہ منوج اگروال کی طبیعت 19 اپریل کو خراب ہوئی تھی۔ اس کے بعد 26 اپریل کو جانچ رپورٹ سے پتہ چلا کہ انھیں کورونا ہوا ہے۔ گھر والوں نے بریلی کے ایک پرائیویٹ اسپتال (اپیکس ہاسپیٹل) میں داخل کرایا۔ ڈاکٹر نے گھر والوں کو بتایا کہ منوج اگروال کو ریمیڈیسیور انجکشن دینا پڑے گا۔ منوج اگروال کے بیٹے سنسکار نے فتح گنج مغرب کے منوہر میڈیکل اسٹور سے 90 ہزار روپے میں دو ریمیڈیسیور انجکشن خریدے۔ منوج اگروال کی حالت مزید بگڑنے لگی تو گھر والے انھیں دہلی لے گئے جہاں نیاتی سپر اسپیشلٹی ہاسپیٹل میں 12 مئی کو وہ انتقال کر گئے۔

90 ہزار روپے میں خریدے 2 ریمیڈیسیور انجکشن نکلے نقلی، مریض کی موت کے بعد ہوا حقیقت کا انکشاف

منوج کی آخری رسومات اور دیگر رسوم کے بعد ان کے بیٹے سنسکار اگروال نے انجکشن کے ڈبے کو دیکھا تو شبہ ہوا۔ وہ 8 جون کو بریلی کے ایس ایس پی منوج سجوان سے ملے، جنھوں نے ڈرگ انسپکٹر سے جانچ کرائی۔ انجکشن کے ڈبے پر برانڈ کا نام ’کووی پری‘ اور قیمت 5400 روپے درج ہے۔ اس کے علاوہ ’میک اِن اںڈیا‘ کا لوگو بھی چھپا ہے۔ اسسٹنٹ کمشنر ڈرگ سنجے کمار کا کہنا ہے کہ انجکشن کی شیشی خالی ہے اور بغیر سیمپل کے یہ نہیں بتایا جا سکتا کہ انجکشن اصلی تھے یا نقلی۔ جس کمپنی کی پیکنگ ہے وہ تین سال پہلے ہی بند ہو چکی ہے۔ بریلی میں اس کمپنی کا کوئی مال نہیں آیا۔

اس جانکاری کے بعد پولس نے منوہر میڈیکل اسٹور کے انمول اور پریانک اگروال کے خلاف مقدمہ تو درج کر لیا لیکن پولس کے پہنچنے سے پہلے ہی دونوں میڈیکل اسٹور بند کر کے فرار ہو چکے تھے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جس انجکشن کی شیشی خالی ہونے کی وجہ سے اسسٹنٹ کمشنر ڈرگ یہ بتانے میں ناکام ہیں کہ دوا اصلی تھی یا نقلی، اس کے بارے میں ایک ہفتہ پہلے ہی پی آئی بی ٹوئٹر کے ذریعہ جانکاری دے چکا ہے کہ یہ انجکشن (کووی پری) نقلی ہے۔


یکم مئی کو ہی دہلی پولس کی کرائم برانچ کی ڈی سی پی مونیکا بھاردواج نے ٹوئٹ کر کے بتایا تھا کہ ’کووی پری‘ نام کا کوئی ریمیڈیسیور انجکشن نہیں ہے۔ انھوں نے یہ بھی لکھا تھا کہ اس جعلسازی کے پورے ریکٹ کا پردہ فاش ہو چکا ہے، لیکن کچھ انجکشن اب بھی بازار میں ہو سکتے ہیں۔ اس کے بعد 3 مئی کو پریس انفارمیشن بیورو (پی آئی بی) نے فیکٹ چیک کر کے ٹوئٹر پر جانکاری دی تھی کہ ’کووی پری‘ نام کا کوئی ریمیڈیسیور انجکشن نہیں ہے۔

90 ہزار روپے میں خریدے 2 ریمیڈیسیور انجکشن نکلے نقلی، مریض کی موت کے بعد ہوا حقیقت کا انکشاف

چونکہ سنسکار اگروال نے یہ انجکشن اپریل میں خریدے تھے لہٰذا کوئی یہ سوال اٹھا سکتا ہے کہ ان کا معاملہ فیکٹ چیک سے پہلے کا ہے۔ لیکن سچ یہ ہے کہ 26 اپریل کو بھی آئی پی ایس مونیکا بھاردواج ٹوئٹر پر ایک اور نقلی انجکشن کے بارے میں جانکاری دے چکی تھیں۔ انھوں نے بتایا تھا کہ ’کووی فار‘ برانڈ کے نقلی انجکشن بنا کر بیچے جا رہے ہیں۔ مونیکا بھاردواج نے ایک-دو نہیں بلکہ پورے نو پوائنٹ بتائے تھے جن کی بنیاد پر اصلی-نقلی کی پہچان کی جا سکتی ہے۔ اس کے علاوہ بھی ملک بھر سے نقلی ریمیڈیسیور انجکشن پکڑے جانے کی خبریں آ رہی تھیں۔ پھر بھی بریلی میں نقلی انجکشن فروخت ہوتے رہے اور یہاں افسروں کو کچھ پتہ نہیں چلا۔ حد یہ ہے کہ اب بھی افسر یہی کہہ رہے ہیں کہ شیشی میں دوا نہیں ہے اس لیے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ انجکشن اصلی تھا یا نقلی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔