بی جے پی نے مہاراشٹر میں 168 اراکین اسمبلی کی حمایت کا کیا دعویٰ

اکثریت کے لیے ضروری اراکین اسمبلی کے بارے میں پوچھے جانے پر مہاراشٹر کے صدر چندرکانت پاٹل نے دعوی کیا ہے کہ بی جے پی حکومت کو کم از کم 168اراکین اسمبلی کی حمایت حاصل ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

نئی دہلی: بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے سنیچر کو دعوی کیا کہ مہاراشٹر میں دیوندر فڑنویس۔اجیت پوار حکومت کو اسمبلی میں کم از کم 168اراکین اسمبلی کی حمایت حاصل ہے اور یہ حکومت پورے پانچ برس استحکام کے ساتھ ریاست کی خدمت کرے گی۔ بی جے پی کے ترجمان سید ظفر اسلام نے یہا ں کہا کہ مہاراشٹر میں نئی حکومت کے پاس مکمل اکثریت ہے۔ وزیراعلی اسمبلی میں آسانی کے ساتھ اکثریت ثابت کردیں گے۔

اکثریت کے اعداد و شمار کے بارے میں پوچھے جانے پر انہوں نے بی جے پی کے مہاراشٹر کے صدر چندرکانت پاٹل کے حوالہ سے دعوی کیا کہ حکومت کی حمایت کو کم از کم 168اراکین اسمبلی کی حمایت حاصل ہے۔ رپورٹ کے مطابق اجیت پوار نے نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) کے 22 اراکین اسمبلی کے ساتھ میٹنگ کرکے بی جے پی کی قیادت والی حکومت میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا لیکن اکثریت کے لئے شیوسینا کے اراکین اسمبلی کے بھی ٹوٹنے کے بارے میں پوچھے جانے پر اسلام نے کہاکہ وہ بالکل ٹھیک اعداد و شمارے کے بارے میں نہیں بتا سکتے پر دعوی کرتے ہیں لیکن ایوان میں کم از کم 168اراکین اسمبلی حکومت کی حمایت میں ہیں۔

اس درمیان ممبئی میں بی جے پی کے ایک ترجمان نے دعوی کیاکہ این سی پی کے تمام اراکین اسمبلی حکومت کے ساتھ ہیں۔ ری بپلکن پارٹی آف انڈیا (اٹھاولے) کے لیڈر رام داس اٹھاولے نے دعوی کیا کہ این سی پی قومی جمہوری اتحاد(این ڈی اے) اور مرکز میں نریندر مودی حکومت میں شامل ہوگی اور سپریہ سولے وزیر بنیں گی۔

دوسری طرف مہاراشٹر سے بی جے پی کے ذرائع نے کہاکہ اجیت پوار کو چونکہ این سی پی کے قانون ساز پارٹی کا لیڈر منتخب کیا جاچکا تھا اس لئے دل بدل قانون ان کے فیصلے پر نافذ نہیں ہوگا بلکہ ان کے ساتھ نہیں آنے والے اراکین اسمبلی کو غالباً نظم و ضبط کے معاملے کا سامنا کرنا پڑے۔ واضح رہے کہ اکثریت کے لئے 145اراکین اسمبلی کی حمایت ضروری ہے۔

next