تمل ناڈو میں بارش سے تباہی کا عالم، اب تک 15 افراد جاں بحق

جنوبی ریلوے نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ہفتہ اور اتوار کے لیے دو ٹرینوں کو منسوخ کر دیا گیا ہے، جب کہ دس دیگر کو جزوی طور سے منسوخ کیا گیا ہے۔

تصویر یو این آئی
تصویر یو این آئی
user

قومی آوازبیورو

کیرالہ ریاست کی راجدھانی اور آس پاس کے تمل ناڈو اضلاع میں موسلادھار بارش کے سبب ریل کی پٹریاں غرقاب ہو جانے کے بعد ہفتہ کو تروننت پورم اور کنیاکماری کے درمیان ٹرین خدمات رخنہ انداز ہو گئی ہیں۔ جمعہ کی شب سے شروع ہوئی موسلادھار بارش کے سبب کچھ مقامات پر زمین دھنسنے کے واقعات بھی پیش آئے۔ ناگرکوئل اور کنیاکماری کے درمیان ریلوے ٹریک پر پانی بھر جانے سے جنوبی ریلوے کو ان مقامات کے درمیان چلنے والی کچھ ٹرینوں کو منسوخ کرنے کے لیے مجبور ہونا پڑا ہے۔

جنوبی ریلوے نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ہفتہ اور اتوار کے لیے دو ٹرینوں کو منسوخ کر دیا گیا ہے، جب کہ دس دیگر کو جزوی طور پر رد کیا گیا ہے۔ نتیجہ کار ناگرکوئل اور کنیاکماری میں ختم ہونے والی سبھی ٹرینوں کو اب تروننت پورم وسطی ریلوے اسٹیشن پر ختم کر دیا جائے گا۔ رپورٹس کے مطابق تمل ناڈو کے ضلعوں کی سرحد سے لگے تروننت پورم میں دو مقامات پر زمین دھنسنے سے ریلوے ٹریک کو نقصان پہنچا ہے۔ ناگرکوئل-کنیاکماری سیکٹر کے درمیان کی ریل پٹریاں بھی غرقاب ہو گئی ہیں۔


تمل ناڈو میں بارش کے قہر سے اب تک 15 سے زیادہ لوگوں کی موت ہو چکی ہے۔ تمل ناڈو میں گزشتہ ایک ہفتے سے موسلادھار بارش جاری ہے۔ خصوصاً چنئی میں بارش کا پانی گھر، اسپتال اور اسکولوں میں گھس گیا ہے۔ بارش کا اثر یہ پڑا ہے کہ بڑی تعداد میں لوگ بے گھر ہو گئے ہیں۔ پورے تمل ناڈو میں اب تک 15 ہزار سے زیادہ لوگوں کو بچایا گیا ہے، انھیں 290 سے زائد راحتی مراکز میں رکھا گیا ہے۔ علاوہ ازیں صرف چنئی میں ہی 3428 لوگوں کو بچایا گیا ہے۔ راحتی کام کے لیے پوری ریاست میں تمل ناڈو پولیس نے اپنے 75 ہزار اہلکاروں کو تعینات کیا ہے۔ اس کے علاوہ سرحدی سیکورٹی گروپ کے 350 اہلکاروں، 250 رکنی خصوصی فورس اور 364 ہوم گارڈوں کو بھی راحت رسانی میں لگایا گیا ہے۔

بارش سے متاثرہ علاقوں میں کارپوریشن کے افسران کی جانب سے 44 رہائشی مقام بنائے گئے ہیں۔ یہاں پر 2699 لوگوں کو آسرا دیا گیا ہے۔ گزشتہ 6 دنوں میں 28 لاکھ 64 ہزار 400 کھانے کے پیکٹ تقسیم کیے گئے ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔