13 ماہ میں ہوئی 1000 سے زائد ’روبوٹک سرجری‘، دہلی ایمس نے رقم کی تاریخ
ایمس میں گزشتہ 13 ماہ کے اندر 1000 سے زائد روبوٹک سرجری کی گئی ہے۔ یہ ملک میں سب سے کم وقت میں سب سے زیادہ روبوٹک سرجری کرنے کا ریکارڈ ہے۔ اب تک زیادہ تر روبوٹک سرجری پرائیویٹ ہاسپٹل میں ہی ہوتی تھی۔

نئی دہلی کے آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (ایمس) نے سرجری کے شعبہ میں ایک بڑی کامیابی حاصل کر تاریخ رقم کر دی ہے۔ ایمس کے ڈپارٹمنٹ آف سرجیکل ڈسپلنز میں گزشتہ 13 ماہ کے اندر 1000 سے زائد روبوٹک سرجری کی گئی ہے۔ یہ ملک میں سب سے کم وقت میں سب سے زیادہ روبوٹک سرجری کرنے کا ریکارڈ ہے۔ اب تک زیادہ تر روبوٹک سرجری پرائیویٹ ہاسپٹل میں ہی ہوتی تھی۔ اس میں خرچ بھی لاکھوں میں آتا تھا، لیکن ایمس میں یہ سرجری فری میں ہوتی ہے۔ یہ حصولیابی نہ صرف ایمس، بلکہ ملک کے پورے سرکاری نظامِ صحت کے لیے فیصلہ کن کامیابی تصور کیا جا رہا ہے۔
ایمس دہلی اب جنرل سرجری کے لیے روبوٹک ٹیکنالوجی کو اپنانے والے ملک کے پہلے سرکاری اسپتالوں میں سے ایک بن گیا ہے۔ اس کی وجہ سے کئی مریضوں کو فائدہ ہوا ہے، پتھری کی سرجری سے لے کر ہرنیا تک اور پتے کی تھیلی نکالنے کی سرجری بھی روبوٹ کی مدد سے ہوئی ہے۔ روبوٹک سرجری کی مدد سے ڈاکٹروں کو آپریشن کے دوران تھری-ڈائمینشنل (3 ڈی) ویژن اور بہتر ڈیکسٹرٹی ملتی ہے، جس کی وجہ سے مشکل سرجری بھی زیادہ آسان طریقے سے کی جا سکتی ہے۔
واضح رہے کہ اب تک ملک میں روبوٹک سرجری کا استعمال بنیادی طور پر یورولوجی، کارڈیوتھوراسک سرجری اور کینسر کے علاج کی سرجری میں ہوتی رہی ہے، لیکن سرکاری اسپتالوں میں جنرل سرجری کے لیے اس کا استعمال کافی محدود تھا۔ ایمس اس کمی کو دور کر رہا ہے۔ ایمس کے ڈپارٹمنٹ آف سرجیکل ڈسپلن کے سربراہ ڈاکٹر سنیل چیمبر نے بتایا کہ روبوٹک تکنیک کا استعمال کئی طرح کے آپریشنوں میں کیا گیا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے بتایا کہ ایمس میں ہم نے پینکریاٹک ڈیوڈنیکٹومی اور جی آئی کینسر سرجری، ہیپاٹو بلیری، کڈنی ٹرانسپلانٹ اور پینکریاز کی سرجری کی ہے۔ ان تمام سرجری کو پہلے بے حد چیلنجنگ سمجھا جاتا تھا، لیکن روبوٹک تکنیک سے اب یہ آسانی سے ہو رہا ہے۔
ڈاکٹر سنیل چیمبر نے مزید بتایا کہ ایمس کا مقصد صرف سرجری کرنا ہی نہیں بلکہ اس تکنیک کی مدد سے زیادہ مریضوں کا علاج کرنا ہے۔ ایمس کا یہ قدم مستقبل میں اسپتالوں کے لیے مثال بنے گا اور روبوٹک سرجری کو عام لوگوں تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ روبوٹک سرجری کے فائدوں کے متعلق انہوں نے کہا کہ سرجری کے بعد ہونے والے درد میں 50 فیصد تک کمی آئی ہے۔ سرجری کے بعد ہاسپٹل میں رکے رہنا 30 فیصد تک کم ہوا ہے۔ عام سرجری کے مقابلہ میں کم مقدار میں خون بہتا ہے، چھوٹے کَٹ لگائے جاتے ہیں اور جلدی ریکوری ہوتی ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔