گجرات میں یکم مارچ سے 10 مئی کے درمیان 1.23 لاکھ ’ڈیتھ سرٹیفکیٹ‘ جاری! کانگریس نے کیا جواب طلب

کانگریس کا کہنا ہے کہ ڈیتھ سرٹیفکیٹ کی تعداد میں 65 ہزار کا اضافہ غیر معمولی ہے اور اتنی بڑی تعداد فطری اموات نہیں ہو سکتیں۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

نئی دہلی: گجرات میں رواں سال بڑی تعداد میں ڈیتھ سرٹیفکیٹ (انتقال سے متعلق صداقت نامے) جاری کیے گئے ہیں جس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ ریاست میں بڑی تعداد میں اموات واقع ہوئی ہیں اور اس معاملہ کو دبایا جا رہا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ اتنے کم عرصہ میں اتنی زیادہ اموات میں اضافہ کا سبب صرف اور صرف وبا یا پھر قدرتی آفت ہی ہو سکتی ہے۔

کانگریس کی جانب سے جاری کردہ پریس بیان کے مطابق، 14 مئی کو گجراتی زبان کے اخبار دویہ بھاسکر میں یہ خبر شائع ہوئی ہے، جس سے گجرات ہی نہیں بلکہ ملک بھر میں سنسی پھیل گئی۔ خبر کے مطابق رواں سال یکم مارچ سے 10 مئی کے درمیان گجرات میں 123000 انتقال سے متعلق صداقت نامے حاصل کیے گئے، جبکہ گزشتہ سال اسی دورانیہ میں صرف 58000 صداقت نامے ہی جاری کیے گئے تھے۔


کانگریس کا کہنا ہے کہ ڈیتھ سرٹیفکیٹ کی تعداد میں 65 ہزار کا اضافہ غیر معمولی ہے اور اتنی بڑی تعداد فطری اموات نہیں ہو سکتیں۔ کانگریس کے لیڈر پی چدمبرم اور شکتی سنگھ گوہل کے مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ 71 دن کے دورانیہ کے لئے ان اعدادوشمار کی آزادانہ طور پر تصدیق کی گئی۔ بیان میں کہا گیا کہ 33 اضلاع سے اعداد و شمار حاصل کیے گئے اور انتقال سے متعلق صداقت ناموں کی تعداد روزنامہ دویہ بھاسکر میں شائع رپورٹ کے برابر ہی آئی، یعنی 2020 میں 58068 اور 2021 میں 123873۔

بیان میں کہا گیا کہ یکم مارچ 2021 سے 10 مئی 2021 کے دورانیہ میں گجرات حکومت نے باضابطہ طور پر کووڈ سے صرف 4218 اموات ہونے کا ہی اعتراف کیا ہے۔ ڈیٹھ سرٹیفکیٹس کی تعداد اور سرکاری بیان میں کورونا سے ہونے والی اموات کے درمیان اس بھاری فرق کی وضاحت صاف الفاظ میں دیئے جانے کی ضرورت ہے۔ کانگریس لیڈران نے کہا، ’’ہمیں خدشہ ہے کہ اموات میں ہونے والے اس بے تحاشہ اضافہ کا سبب کورونا کی وبا ہے اور ریاستی حکومت حقیقی اعدادوشمار کو چھپانے کی کوشش کر رہی ہے۔‘‘


بیان میں کہا گیا کہ ہمارے خدشات کی تصدیق اس حقیقت سے ہو جاتی ہے کہ گنگا ندی میں سینکڑوں نامعلوم لاشیں بہتی ہوئی پائی گئیں اور اس کے علاوہ 2000 نامعلوم لاشیں گنگا کے ساحل پر ریت میں دفن قبریں بھی پائی گئیں۔ ہمیں شک ہے کہ حکومت ہند کچھ ریاستی حکومتوں کے ساتھ مل کر نئے انفیکشن اور کووڈ سے ہونے والی اموات کے حقیقی اعدادوشمار کو دبا رہی ہے۔ اگر ہمارا شک صحیح ہے تو یہ ملک کے لئے شرم اور قومی سانحہ کے ساتھ ایک گمبھیر جرم بھی ہے۔ کانگریس لیڈران نے مطالبہ کیا ہے کہ گجرات حکومت کو ملک کے باشندگان کو وضاحت پیش کرنا ہوگی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔