سی اے اے کے خلاف ’ستیہ گرہ‘ پر نکلے 10 نوجوانوں کو فوراً رہا کیا جائے: سی پی آئی- ایم ایل

بیان میں کہا گیا ہے کہ ’’عوام کے سوالوں کا جواب دینے اور عوامی توقعات کا احترام کرنے کے بجائے مودی۔یوگی کی حکومت عوام کے آئینی حقوق کو کچلنے کے لئے تاناشاہی کارروائی کر رہی ہے‘‘

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

لکھنؤ: کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (ایم ایل) نے شہریت (ترمیمی) قانون اور این آر سی کے خلاف گورکھپور کے چوری چورا سے دہلی کے راج گھاٹ تک ’ستیہ گرہ‘ پر نکلے 10 نوجوانوں کو غازی پور پولیس کی جانب سے 11 فروری کو گرفتار کر کے جیل بھیجے جانے کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔

پارٹی نے رہائی کا مطالبہ اور ضمانت کے لئے سخت شرائط کے خلاف ’ستیہ گرہ‘ کے لئے نکلے نوجوانوں کی جانب سے غازی پور جیل میں جمعرات سے شروع کی گئی ’بھوک ہڑتال‘ کی حمایت کی ہے۔ سی پی آئی (ایم ایل) کے ریاستی سکریٹری سدھا کر یادو نے جمعہ کو جاری بیان میں کہا کہ پرامن طریقے سے پدل مارچ نکال رہے انقلابی نوجوانوں پر یوگی حکومت کی یہ کارروائی اس کی بوکھلاہٹ اور تاناشاہی کو ظاہر کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کی پالیسیوں پر سوال کھڑے کرنا اور امن و ہم آہنگی کا پیغام دینا بی جے پی حکومت کی نظر میں جرم ہوگیا ہے۔ عوام کے سوالوں کا جواب دینے، عوامی توقعات کا احترام کرنے کے بجائے مودی۔یوگی کی حکومت عوام کے آئینی حقوق کو کچلنے کے لئے تاناشاہی کارروائی کررہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پوری ریاست میں سی اے اے کی مخالفت میں تحریکوں اور خواتین کے پرامن احتجاجی مظاہروں کے ساتھ بھی ایسا ہی سلوک کیا جا رہا ہے۔ ایک خاتون صحافی سمیت 10 طلبہ، سماجی کارکنوں کی جانب سے گورکھپور ضلع سے شروع ہونے والا پیدل مارچ اعظم گڑھ اور مئو سے گزرا تو ان تینوں اضلاع میں امن و امان کو کوئی نقصان نہیں ہوا۔ ایسے میں غازی پور انتظامیہ کی جانب سے ان کی گرفتاری کی وجہ سے نقص امن و امان بتانا کافی حیران کن ہے۔