سفر نامہ: پاموکلے میں موجود کیلشیم کے پہاڑ قدرت کا نایاب تحفہ... سید خرم رضا

ڈرائیور نے بیس منٹ کی مسافت طے کرنے کے بعد ٹیکسی ایک ایسی جگہ پہنچ کر کھڑی کر دی جس کے بارے میں سنا تو تھا لیکن آنکھوں سے پہلی بار دیکھ رہا تھا۔

تصویر قومی آواز
تصویر قومی آواز

سید خرم رضا

ہوٹل سے ٹرام، میٹرو اور ریلوے اسٹیشن سب دو سو میٹر کے اندر اندر ہیں۔ ہمیں پاموکلے (Pamukkale) جانا تھا جہاں ٹرین، بس اور پرائیویٹ ٹیکسی سے جانے کے تینوں متبادل موجود تھے، ٹرین سے پانچ گھنٹے، بس سے تین گھنٹے اور ٹیکسی سے ڈھائی گھنٹے کا وقت لگتا ہے اور تینوں کے کرائے میں بھی فرق ہے۔ ظاہر ہے ٹرین سے سفر سب سے سستا ہے اور ہمارے اسٹیشن یعنی ’باسمنے ریلوے اسٹیشن‘ سے ’ڈینزیلی‘ جانے کا کرایا محض 23 لیرا ہے یعنی ہندوستانی 280 روپے۔ ظاہر ہے اگر آپ اپنے ملک سے باہر ہیں تو سستا کرایہ آپ کو اپنی جانب راغب تو کرے گا ہی، ٹرین کا ایک ایسا سفر ہے جو ملک کے ایک بڑے حصہ کو دیکھنے کا موقع بھی فراہم کرتا ہے۔ اس لئے ہم نے ٹرین کے متبادل کو ہی منتخب کیا۔ پاموکلے جانے کے لئے ڈینزیلی ہی اترنا پڑتا ہے اور یہ ازمیر سے 250 کلومیٹر پر واقع ہے۔

یہاں زبان ایک مسئلہ ہے کیونکہ ازمیر شہر میں تو شائد ہی کوئی انگریزی سمجھتا ہو، لیکن اگر سب چیزیں ٹھیک ہوں تو پھر بات کرنے کی اتنی ضرورت نہیں پڑتی، اس لئے ابھی تک زبان کی وجہ سے کوئی دشواری نہیں آئی۔ اسٹیشن پر داخلہ میں کوئی پابندی نہیں ہے کوئی بھی آ جا سکتا ہے کیونکہ چیکنگ ٹرین کے اندر ہوتی ہے۔ ہم ٹہلتے ہوئے اسٹیشن میں داخل ہوئے، ٹکٹ خریدے اور ڈینزیلی کی ٹرین کا انتظار کرنے لگے۔ ٹرین کی آ مد کا وقت 8.42 تھا اور 8.53 پر اس کی روانگی تھی۔ دونوں صورتوں میں ایک منٹ کا بھی فرق نہیں تھا۔ یہ ایک پسنجر ٹرین تھی لیکن کسی بھی چیز سے یہ پسنجر ٹرین نہیں لگی۔ شاندار سیٹیں، صاف ستھرے اور جدید واش روم، پانچ کوچز پر مشتمل ٹرین میں آپ کہیں بھی بیٹھ سکتے ہیں اور کہیں بھی جا سکتے ہیں۔ اس ٹرین میں ایک ٹکٹ کلیکٹر سب کے ٹکٹ چیک کرتا رہتا ہے۔ 250 کلومیٹر کے راستے میں 21 اسٹیشنوں پر یہ ٹرین رکی۔ خاص بات یہ تھی کہ درمیان سفر سرسبزکھیت ضرور نظر آئے، پورے سفر کے دوران ایک سے ایک شاندار عمارتیں دیکھنے کو ملیں، ہر اسٹیشن کے قریب عالیشان مکان ایک الگ کہانی بیاں کر رہے تھے یعنی کسی بھی اسٹیشن، شہر یا قصبہ سے یہ محسوس نہیں ہوا کہ ہم کسی چھوٹے شہر سے ہوکر سفر کر رہے ہیں۔ پورے راستے میں ایک شخص پوری ٹرین میں چائے اور ناشتہ کا سامان بیچتا ہوا ہمارے ساتھ سفر کرتا رہا۔

طے شدہ وقت کے مطابق 1.42 پر ٹرین ڈینزیلی پہنچ گئی۔ ٹرین سے اترنے کے بعد باہر نکلے تو ایک ٹیکسی کھڑی تھی میں نے ٹیکسی ڈرائیور سے اشاروں میں پاموکلے جانے کا کرایا پوچھا۔ اس نے دو نوٹ نکالے ایک 50 لیرا کا اور دوسرا 20 لیرا کا نوٹ دکھاکر 70 لیرا کا کرایہ بتایا۔ میں نے اس سے 50 کا نوٹ لیا اور اشاروں میں کہا کہ بس اتنے دیں گے لیکن وہ کسی طرح تیار نہیں ہوا، آخر میں نے اسی کی بات مان لی، ہم لوگ جلدی سے ٹیکسی میں بیٹھ گئے۔ ٹیکسی میں بیٹھتے ہی ڈرائیور نے ٹیکسی 130 کلومیٹر فی گھنٹے کی رفتار سے دوڑا دی اور پھر بیس منٹ کی مسافت طے کرنے کے بعد اس نے ٹیکسی ایک ایسی جگہ پہنچ کر کھڑی کر دی جس کے بارے میں سنا تو تھا لیکن آنکھوں سے پہلی بار دیکھ رہے تھے، کیا دلکش نظارہ تھا۔

ٹیکسی سے اترتے ہی دیکھا کہ تین طرف عام ہرے اور مٹیالے پہاڑ سینہ تانے کھڑے ہیں، چوتھی طرف دودھ سے زیادہ سفید پہاڑ ایک خوبصورت حسین دوشیزہ کی طرح مسکرا رہے ہیں۔ قدم خود بخود اس جانب بڑھنے لگے۔ تھوڑی دور چلنے کے بعد ٹکٹ کاؤنٹر آ گیا۔ 35 لیرا فی کس کے حساب سے ٹکٹ لئے اور اندر داخل ہو گئے۔ تھوڑے فاصلہ پر دونوں جانب دو بینچ پڑی ہوئی تھیں وہاں جوتے اتارے کیونکہ آگے پورا حصہ گیلا تھا۔ دور سے جو برف کا پہاڑ نظر آ رہا تھا وہ دراصل کیلشیم کا پہاڑ ہے، پہاڑ کے درمیان جگہ جگہ چھوٹے قدرتی تالاب ہیں جس میں جمع کیلشیم کو لوگ اپنے جسم پر ملتے ہیں اور اس میں نہاتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ یہاں نہانے سے بہت سی بیماریاں دور ہو جاتی ہیں خاص طور سے جلد سے متعلق کوئی بھی بیماری اگر کسی کو ہو تو وہ ٹھیک ہو جاتی ہے۔

نیچے کی جانب پانی ٹھنڈا ہے اور جیسے جیسے اوپر جائیں گے ویسے ویسے احساس ہوگا کہ پانی گرم ہو رہا ہے۔ اس کو ’ہاٹ اسپرنگ واٹر‘ بھی کہا جاتا ہے۔ پہاڑ کے اوپر سے پانی کے ساتھ کیلشیم بہتا ہے جو جگہ جگہ جمع ہو جاتا ہے۔ اس کیلشیم کی وجہ سے پورا پہاڑ سفید براق کی طرح نظر آتا ہے۔ یہ پہاڑ قدرت کا ایک نایاب تحفہ ہے جس کو دیکھ کر، اس پر چہل قدمی کرتے ہوئے قدرت کی عظمت کو بار بار سجدہ کرنے کو دل چاہتا ہے۔ اس جگہ پر پہنچ کر کوئی سوکھا واپس آ جائے ایسا مشکل ہے۔ ہم بھی کپڑے پہنے پہنے ایک تالاب میں لیٹے رہے۔ یہاں گھنٹوں وقت گزارنے کے بعد بھی دل واپسی کے لئے تیار نہیں تھا لیکن مجبوری تھی کیونکہ ازمیر کی واپسی کے لئے ٹرین پکڑنی تھی۔ پہاڑ کا منظر پورا یوروپی تھا جبکہ سیاح پوری دنیا کے تھے لیکن وہاں کا منظر یوروپی سمندر کی جانب اشارہ کر رہا تھا۔

پاموکلے میں کئی تاریخی مقامات ہیں لیکن وقت کی کمی کی وجہ سے نیچے اتر کر ٹیکسی لی اور پھر ڈینزیلی سے ازمیر جانے والی آخری ٹرین کی روانگی سے پانچ منٹ پہلے اسٹیشن پہنچ گئے۔ ٹکٹ لے کر ٹرین کے سب سے آخری کوچ میں نشستیں لے لیں اور پھر پورے راستے قدرت کے اس نایاب تحفے کے بارے میں سوچتے رہے۔ وقت مقررہ پر ٹرین نے باسمنے اسٹیشن پر ہمیں اتار دیا، اسٹیشن کے باہر ایک ہوٹل میں عشایہ لینے کے بعد اپنے ہوٹل پہنچے۔ کل کا دن ازمیر میں ہی گزارنا ہے اور یہ دیکھنا ہے کہ ازمیر میں اور کیا کچھ چھپا ہے۔ جب تک کے لئے خدا حافظ