سفرنامہ: استنبول کا ’بیسلکا سسٹرن‘ فن تعمیر کا بہترین نمونہ...سید خرم رضا

کلاک ٹاور سے ملحقہ ایک بازار ہے جہاں پر دوسری مارکیٹوں کی طرح شو روم نہیں ہیں بس چھوٹی چھوٹی دوکانیں ہیں۔ یہاں پر زیادہ تر مقامی لوگ شاپنگ کرتے نظر آئیں گے، یہاں پر مول بھاؤ ہوتا بھی دکھائی دے گا۔

تصویر قومی آواز
تصویر قومی آواز

سید خرم رضا

ازمیر کو خدا حافظ کہنے سے پہلے میری یہ خواہش تھی کہ ازمیر شہر کو تھوڑا اندر جھانک کر دیکھا جائے اس لئے روانگی سے پہلے کچھ رہائشی علاقوں اور کچھ سستے بازاروں کی جانب رخ کیا۔ کئی علاقوں میں جانے کے بعد اندازہ ہوا کہ یہاں کے لوگ زیادہ تر ملازمت کرتے ہیں، یہاں کی رہائش گاہوں کو باہر سے دیکھنے کے بعد اندازہ نہیں ہوتا کہ یہ مکان کسی امیر شخص کا ہے یا غریب کا۔ ٹھیک اسی طرح دوکان میں جائیں یا کسی بڑی کمپنی میں تو یہ اندازہ نہیں ہوتا کہ مالک کون ہے اور ملازم کون۔ کئی مرتبہ مالک بھی وہ کام کر رہا ہوتا ہے جس کو ہم اپنے پیمانہ سے ملازم کا کام سمجھتے ہیں۔

کلاک ٹاور (گھنٹا گھر) سےملحقہ ایک بڑا بازار ہے جہاں پر دوسری مارکیٹوں کی طرح بڑے بڑے شو روم نہیں ہیں بس چھوٹی چھوٹی دوکانیں ہیں۔ یہاں پر زیادہ تر مقامی لوگ شاپنگ کرتے نظر آئیں گے اور یہاں مول بھاؤ بھی ہوتا دکھائی دے گا۔ یہاں بڑے بڑے برانڈس کا ڈپلیکیٹ مال بھی دیکھنے کو نظر آئے گا۔ جہاں پر کلاک ٹاور واقع ہے وہ سمندر کا کنارہ ہے اور یہاں پر ایک چھوٹی سی مسجد بھی ہے جو 1748 میں تعمیر ہوئی تھی۔ آسمان میں چھائے گھنے کالے بادلوں کی واجہ سے موسم کافی سہانہ ہے، ہوائیں ٹھنڈی چل رہی ہیں جس کی وجہ سے ازمیر کا درجہ حرارت 40 ڈگری سیلسیس سے 23 ڈگری سیلسیس ہو گیا تھا، اس موسم میں ازمیر کو خدا حافظ کہنے کو دل نہیں چاہ رہا تھا۔ رونق سے بھرے سمندر کے کنارے کا آخری مرتبہ دیدار کرنے کے بعد ہوٹل واپس آئے۔ استنبول واپسی کے سفر کے لئے ائیر پورٹ پہنچے اور ترکش ائیر لائنس سے 40 منٹ کا سفر طے کرکے ہم گھریلو پرواز کے لئے بنے پرانے ائیر پورٹ ’صبیحہ گوکین ائیرپورٹ‘ پر اتر گئے۔ صبیحہ دراصل ترکی کی پہلی خاتون پائلٹ تھیں، یہ ان چند بچوں میں سے ایک تھیں جن کو ترکی کے پہلے صدر مصطفیٰ کمال اتاترک کی حکومت نے یتیم خانہ سے گود لیا تھا۔

جن بادلوں نے ہمیں ازمیر سے رخصت کیا تھا وہ بادل استنبول میں برس رہے تھے، رم جھم بوندوں نے ہمارا استقبال کیا۔ ائیر پورٹ کے راستہ میں کافی ٹریفک جام تھا جو راستہ 45 منٹ میں طے ہونا تھا وہ ٹریفک جام کی وجہ سے بڑھ کر ڈیڑھ گھنٹہ ہوگیا تھا۔ ہوٹل میں چیک ان کرنے کے بعد ہم لوگ تاریخی بیسلکا سسٹرن (یعنی پانی کی ٹنکی یا حوض) دیکھنے کے لئے روانہ ہوئے۔ اس زمین دوز پانی کی ٹنکی (حوض) کو رومن بادشاہ جسٹینیس اول(527-565) نے بنوایا تھا، یہ 140میٹر لمبی اور 70 میٹر چوڑی ہے جس میں 336 کالم ہیں۔ سیڑھیوں سے نیچے اترتے ہی بائیں جانب ایک فوٹو کھچوانے کے لئے چھوٹی سی دوکان ہے جہاں 40 لیرا میں رومی دور کے لباس زیب تن کر کے رومی بادشاہ، رانی اور شہزادے بن جاتے ہیں۔ اس کے بعد کچھ راستہ اندھیرے میں ڈوبا ہوا ہے اس راستے پر آگے بڑھتے چلے جائیں، دونوں جانب بڑے بڑے کالم (پتھر کے کھمبے) نظر آئیں گے، نیچے پہنچنے پر حوض میں تھوڑا بہت پانی بھی نظر آئے گا۔ کچھ آگے بڑھنے کے بعد ایک جگہ مجمع لگا نظر آئے گا۔ یہاں پر آنسو ولا ایک کالم ہے (کرائنگ کالم)۔ اس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ ہمیشہ گیلا رہتا ہے اس لئے اس کو آنسو والا کالم کہا جاتا ہے۔ یہاں پر لوگ منت کے طور پر سکّے ڈالتے ہیں۔ آگے چل کر جہاں سب سے زیادہ بھیڑ نظر آئے گی وہاں پر دو کالم ہیں جو ’میڈوسا‘ کے سروں پر کھڑے ہیں، اس کا کسی کو بھی اندازہ نہیں ہے کہ ان کو کہاں سے لایا گیا ہے لیکن یہ فن تعمیر کا بہترین نمونہ ہے۔ اس حوض سے اندازہ ہوتا ہے کہ پانی کی ہر دور میں اہمیت رہی ہے۔ اس کے بعد سیڑھیاں چڑھ کر دوسری جانب سڑک پر باہر نکلے۔ باہر نکلنے پر سامنے ’ایاصوفیہ‘ نظر آ تا ہے۔

کچھ دیر سلیمان اسکوائر میں بیٹھنے کے بعد ہم لوگ ہوٹل کی جانب واپس ہو گئے۔ یہاں کی زیادہ تر سڑکیں چڑھائی اور ڈھلان والی ہیں اس لئے واپسی میں ہمیں چڑھائی پر جانا تھا اس لئے ہم نئے سرے سے تھکنے کے لئے تیار ہو گئے۔ ہوٹل پہنچ کر کھانا کھایا اور سو گئے، اگلے دن تک کے لئے خدا حافظ۔

Published: 13 Jul 2019, 12:10 PM